مدعو میں برتری کی نفسیات پیدا کرنا
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۱۱
مدعو میں برتری کی نفسیات پیدا کرنا
مسز اندرا گاندھی کو ہندوستان کے الیکشن ۱۹۷۷ میں مکمل شکست ہوئی تھی، اس کے بعد جنتا حکومت نے پوری کوشش کی کہ ان کو سیاسی منظر سے ہٹا دے۔ مگر جنوری ۱۹۸۰ کے الیکشن میں دوبارہ اندرا گاندھی کو اتنی بڑی کامیابی حاصل ہوئی کہ ہندوستانی پارلیمنٹ کی دو تہائی نشستوں پر ان کی پارٹی قابض ہو گئی۔ اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندوستان ٹائمس (مہ جنوری) لکھتا ہے: ملک اپنی جمہوریت پر فخر کر سکتا ہے جس نے اندرا کے لئے اس حیران کن واپسی کو ممکن بنایا۔ ہندوستان کا سیاسی ڈھانچہ انتخابی طریقہ کے ذریعہ پر امن سیاسی تبدیلی کے نظام کے ساتھ، ان بہت سے زیر ترقی ممالک سے ممتاز طور پر نمایاں ہے جہاں اختلاف رائے کو سختی سے دبا دیا گیا ہے، انفرادی آزادی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور سیاسی تبدیلی صرف تشدد ہی کے ذریعہ وجود میں آسکتی ہے:
The country can be proud of its democracy which has enabled her to make her stunning comeback. India's political system with its mechanism of smooth political change through the ballot, stands out in striking contrast to those of most developing countries where dissent is stifled, individual liberties smothered and change ushered in only amid violence. اس عبارت میں واضح طور پر ایران اور پاکستان جیسے ملکوں کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اقتباس موجودہ زمانہ کے ایک بہت بڑے المیہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر جو تحریکیں اٹھیں انھوں نے اسلام کی کوئی واقعی خدمت تو نہ کی۔ البتہ اسلام کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا۔ انھوں نے اپنے ’’بوائق‘‘ کو اسلام کا عنوان دے کر دوسری قوموں کے سامنے اسلام کی تصویر ہلکی کر دی۔ اور اس طرح مدعو اقوام میں غیر ضروری طور پر اسلام کے مقابلہ میں احساس برتری کا جذبہ پیدا کر دیا۔ یہ تحریکیں اگر اسلام کے سوا کسی اور نام پر اٹھتیں تو ان کی نادانیوں کا الزام ان کے اپنے سر جاتا۔ مگر اسلام کے نام پر اٹھنے کی وجہ سے ان کی ہر چیز اسلام کی طرف منسوب ہو گئی۔ وہ قو میں جو اسلام کے لئے مدعو کا درجہ رکھتی تھیں وہ اپنے کو افضل پا کر اس نفسیات میں مبتلا ہو گئیں کہ ان کے پاس وہ چیز زیادہ بہتر طور پر موجود ہے جس کی اسلام دعوت دیتا ہے۔ ’’اسلامی نظام‘‘ اور ’’نظام مصطفیٰ‘‘ میں انسان کی آزادی کو کچلا جاتا ہے جب کہ ہمارے اپنے نظام میں انسان کو آزادی رائے کا حق حاصل ہے۔ ان کے یہاں حرث ونسل کی ہلاکت کی قیمت پر حکومتیں بدلتی ہیں، ہمارے یہاں پر امن انتخابات سے۔ ان کے یہاں سیاسی اختلاف پر کوڑے لگتے ہیں اور ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں، ہمارے یہاں سیاسی اختلاف پر کوئی پابندی نہیں۔ ان کے یہاں کسی مجرم کو سزا دینے کے لئے نہ گواہی کی ضرورت ہے اور نہ قانون کے تقاضے پورے کرنے کی۔ جس کو چاہا پکڑا اور سرسری سماعت کے بعد گولی مار دی یا جیل میں بند کر دیا۔ ہمارے یہاں کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دی جاسکتی جب تک اس پر باقاعدہ مقدمہ چلا کر قانونی طور پر اس کو مجرم ثابت نہ کر دیا جائے۔ ان کے یہاں اختلاف کو آپس کی مار کاٹ کے ذریعہ طے کیا جاتا ہے، ہمارے یہاں آپس کا اختلاف پرامن ذرائع سے طے ہو جاتا ہے۔ مسلمان اپنی نالائقی کی بنا پر موجودہ دنیا میں دوسرے درجہ کی قوم بن چکے تھے، اب انھوں نے اسلام کی غلط نمائندگی کر کے اسلام کو بھی قوموں کی نظر میں دوسرے درجہ کا مذہب بنا دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues