Al-Risala · March 1980 · page 10

تو کل ایک مھے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۱۰

انجام پاتا ہے کہ آدمی اگر چاہے تو با سانی اس سارے واقعہ کو کچھ خاص اسباب کے طرف منسوب کردے۔ اس طرح آدمی کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دیا گیا ہے کہ ایک ہی واقعہ کو وہ بیک وقت دور رخ سے دیکھ سکے، ایک رخ سے دیکھنے میں وہ اس خدا کا کرشمہ نظر آئے اور دوسرے رخ سے دیکھنے میں ایسا معلوم ہو گو یا سب کچھ خود انسان کے فراہم کئے ہوئے معلوم و متعین اسباب کے تحت وقوع میں آیا ہے۔

امتحان کی غرض سے اگر چہ اللہ تعالیٰ نے نتائج کو اسباب کے ساتھ اس طرح وابستہ کر دیا ہے کہ اسباب کی فراہمی کے بغیر نتائج وقوع میں نہ آئیں، لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو سبب اور نتیجہ میں اتنی کم نسبت ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ”سبب“ کی حیثیت ایک بہانہ سے زیادہ انہیں۔ درخت بظاہر آدمی کے عمل کے نتیجہ میں ظہور میں آتا ہے۔ مگر اس کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر دیکھئے تو درخت ایک ایسی چیز ہے جس کو وجود میں آنے کے لئے اتنے زیادہ عوامل درکار ہیں کہ اس کے لئے ایک پوری کائنات کی ضرورت ہے۔ اس پورے واقعہ میں انسان کے عمل کا حصہ اتنا کم ہے کہ اس کو ”نہیں‘‘ کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح ایک آدمی کا ایک علم کا ماہر بننا بظاہر اگر چہ انسان کی کوششوں سے ظہور میں آتا ہے۔ مگر ایک شخص کا صاحب علم بننا اتنا انوکھا واقعہ ہے جس کو ظہور میں لانے کے لئے خدائی طاقتوں کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ اپنے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے تمام تر اللہ کی توفیق اور اس کی مدد سے وقوع میں آتا ہے۔ اس پورے واقعہ میں بھی انسان کی اپنی کوششوں کا حصہ اتنا حقیر ہے کہ وہ بالکل ناقابل شمار ہے۔ امتحان کے مقصد سے اگر چہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کر دیا ہے کہ اسباب کی فراہمی کے بغیر کوئی واقعہ ظہور میں نہ آئے۔ مگر کائنات کے اندر کسی واقعہ کا ظہور میں آنا ایک ایسا معجزہ ہے جس کو خدا کے سوا کوئی ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ --------- کفر یہ ہے کہ آدمی اسباب وعلل کے ظاہری پر دوں میں اٹک کر رہ جائے، وہ نہیں اسباب کو سب کچھ سمجھنے لگے۔ اس کے برعکس ایمان یہ ہے کہ آدمی ظاہری پر دوں سے گزر کر اس کے پیچھے کام کرنے والی حقیقت عظمیٰ کو دیکھ لے اور اس کا اقرار کرتے ہوئے اس کے آگے سجدہ میں گرپڑے۔

توکل کا دوسرا پہلو معاملات میں اللہ پر اعتماد ہے۔ یعنی جب کوئی بات اپنے خلاف پیش آئے تو آدمی سارے معاملے کو اللہ کے اوپر ڈال کر صبر کرے۔ اللہ کے راستہ پر چلنا اور اللہ کے دین کا داعی بننا سرا سر آزمایش کا معاملہ ہے۔ آدمی ایک ایسی دنیا میں رہتا ہے جہاں طرح طرح کے لوگ ہیں، ان کی طرف سے طرح طرح کے مسائل سامنے آتے رہتے ہیں۔ کبھی کسی کی نازیبا حرکت پر نفرت اور شکایت کا جذبہ ابھرتا ہے، کبھی کسی کی ترقی اور کامیابی کو دیکھ کر حسد کی نفسیات پیدا ہوتی ہے، کبھی کسی کی تنقید کو سن کر کبراور انانیت کا شیطان جاگ اٹھتا ہے، کبھی کسی کے ہاتھوں مادی نقصان پہنچ جاتا ہے اور آدمی چاہنے لگتا ہے کہ اس کا انتقام لے۔ کبھی لوگ ایک سچی بات کا انکار کر کے آدمی کے اندر مایوسی اور دل شکستگی کی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں۔ غرض بار بار مختلف قسم کی ناخوش گوار صورت سامنے آتی ہے اور آدمی کے اندر رد عمل کی نفسیات ابھرتی ہے۔ آدمی چاہنے لگتا ہے کہ وہ پیش آمدہ مسئلہ سے الجھ جائے اور اس کے خلاف جو کچھ کر سکتا ہے کر ڈالے۔ مگر توکل یہ ہے کہ ایسے ہر موقع پر آدمی صرف اپنی ذمہ داری کو یاد رکھے اور باقی تمام معاملات کو اللہ کے اوپر ڈال دے، وہ اللہ سے بہتر بدلہ کی امید کرتے ہوئے خاموش ہو جائے۔ وہ اپنا رخ انسان کی بجائے اللہ کی طرف کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page