سائنس توحید کی طرف
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۱۳
اس کا مدار تمام تر اتفاق پر ہے۔ اس مظہر کی توجیہہ کے لئے ایٹم میں جو پراسرار طاقت فرض کی گئی ہے اسی کا نام کمزور نیوکلیئر فورس ہے۔ سائنس داں یہ یقین کرتے رہے ہیں کہ انہیں چار طاقتوں کے تعامل (Interactions) سے کائنات کے تمام واقعات ظہور میں آتے ہیں۔ مگر سائنس میں اپنی فطرت کے لحاظ سے ہمیشہ وحدت کی کھوج میں رہتی ہے۔ کائنات کا سائنسی مشاہدہ بتاتا ہے کہ پوری کائنات انتہائی ہم آہنگ ہو کر چل رہی ہے۔ یہ حیرت ناک ہم آہنگی اشارہ کرتی ہے کہ کوئی ایک قانون ہے جو فطرت کے پورے نظام میں کارفرما ہے۔ چنانچہ طبیعیات مستقل طور پر ایک متحدہ اصول (Unified Theory) کی تلاش میں ہے۔ سائنس کا "ضمیر" متواتر اس جدوجہد میں رہتا ہے کہ وہ قوانین فطرت کی تعداد کو کم کرے اور کوئی ایک ایسا اصول فطرت (Principle) دریافت کرے جو تمام واقعات کی توجیہہ کرنے والا ہو۔
آئن سٹائن نے مذکورہ قوانین میں سے پہلے دو قوانین کشش اور برقی مقناطیسیت کے اتحاد (Unification) کی کوشش کی اور اس میں ۲۵ سال سے زیادہ مدت تک لگا رہا مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے کچھ پہلے اس نے اپنے سرک سے کہا تھا: میری تمنا تھی کہ میں اور زیادہ ریاضی جانتا تاکہ اس مسئلہ کو حل کرلیتا۔ ڈاکٹر عبدالسلام (پیدائش ۱۹۲۶) اور دوسرے دو امریکی سائنس دانوں (گلاسگو اور ڈین برگ) کو ۱۹۷۹ میں طبیعیات کا جو مشترکہ نوبل انعام ملا ہے وہ ان کی اسی قسم کی ایک تحقیق پر ہے۔ انھوں نے مذکورہ قوانین فطرت میں سے آخری دو قانون (طاقتور اور کمزور نیوکلیئر فورس) کو ایک واحد ریاضیاتی اسکیم میں متحد کر دیا۔ اس نظریہ کا نام جی ایس ڈبلیو نظریہ (G-S-W Theory) رکھا گیا ہے۔ اس کے ذریعہ انھوں نے ثابت کیا ہے کہ دونوں قوانین اصلاً ایک ہیں۔ اس طرح انھوں نے چار کی تعداد کو گھٹا کر تین تک پہنچا دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دریافت کا بڑا سہرا ڈاکٹر عبدالسلام کے سر ہے۔ مگر ان کو تنہا انعام نہ ملنا در اصل ان کی اس پس ماندگی کی قیمت ہے کہ وہ پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں جو اس قسم کی تحقیقی کا ساز و سامان اپنے پاس نہیں رکھتا۔ ایسی تحقیق صرف ایسے اداروں میں ہوسکتی ہے جن کے پاس ٹنوں روپیہ ہو، انتہائی قیمتی مشینیں ہوں اور کسی تحقیق کے لئے وہ درجنوں سائنس دانوں کی خدمات حاصل کرسکتے ہوں ۔ ایسے ادارے یا امریکہ میں یا جاپان میں یا مغربی یورپ میں۔
سائنس اگرچہ اپنے کو "کیا ہے" کے سوال تک محدود رکھتی ہے، وہ "کیوں ہے" کے سوال تک جانے کی کوشش نہیں کرتی۔ تاہم یہ ایک واقعہ ہے کہ سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور حیرت ناک ہے کہ اس کو جاننے کے بعد کوئی آدمی "کیوں ہے" کے سوال سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میکسویل (۱۸۳۱ - ۱۸۷۹) وہ شخص ہے جس نے برقی مقناطیسی تعامل کے قوانین کو ریاضی کی مساواتوں (Equations) Electromagnetic Interaction میں نہایت کامیابی کے ساتھ بیان کیا۔ انسان سے باہر فطرت کا جو مستقل نظام ہے اس میں کام کرنے والے ایک قانون کا انسانی ذہن کی بنائی ہوئی ریاضیاتی مساوات میں اتنی خوبی کے ساتھ ڈھل جانا اتنا عجیب تھا کہ اس کو دیکھ کر بولٹزمن بے اختیار کہہ اٹھا: وہ کون خدا تھا جس نے یہ نشانیاں لکھ دیں Who was the God who wrote these signs?
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues