Al-Risala · March 1980 · page 14

ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی نہ کیجئے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۱۴

ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی نہ کیجئے

ایک شخص سرکاری ملازم تھا، شہر میں اس کے پاس ذاتی مکان تھا۔ زندگی آرام سے گزر رہی تھی۔ اس کے بعد اس کو اپنی لڑکی کی شادی کرنی پڑی۔ شادی میں اس نے اپنے محکمہ سے ایک بڑا قرض لے لیا۔ لڑکی کی شادی دھوم سے ہو گئی۔ مگر اس کے بعد ایک نیا مسئلہ سامنے آگیا۔ اس کی تنخواہ میں سے ہر مہینہ قرض کی قسط کٹنے لگی۔ اس کی وجہ سے اس کو ماہانہ ملنے والی رقم تقریباً آدھی ہو گئی۔ خرچ چلنا مشکل ہو گیا۔ میاں بیوی نے مشورہ کیا کہ گھر کا ایک حصہ کرایہ پر دے دیں کرایہ میں جو رقم آئے اس کو ملا کر گزارہ کریں۔ انھوں نے ایک بڑا کمرہ اور اس سے ملحقہ غسل خانہ اپنے لئے رکھا اور باقی پورا مکان کرایہ پر دے دیا۔ اس طرح پانچ سال گزر گئے، اس کے بعد کرایہ دار کی نیت بگڑی۔ اس نے چاہا کہ پورے مکان پر قبضہ کر لے۔ اس نے شادی کا بہانہ بنا کر مالک مکان سے کہا کہ آپ دو ہفتہ کے لئے اپنا کمرہ ہم کو دے دیں تا کہ ہم اپنے مہمانوں کو ٹھہر اسکیں ۔ دو مہینہ کے بعد ہم آپ کا کمرہ خالی کر دیں گے۔ کرایہ دار نے وقتی طور پر ان کے لئے جگہ کا بھی انتظام کر دیا۔ مالک مکان اس کے کہنے میں آگئے اور کمرہ چھوڑ کر چلے گئے۔ بعد کو کرایہ دار نے ان کا تمام سامان ان کے پاس بھجوا دیا۔ دو ہفتہ گزرنے کے بعد مالک مکان نے اپنے گھر میں آنا چاہا تو کرایہ دار نے ان کو بھگا دیا اور کہا کہ یہ پورا مکان میرا ہے۔ اب اس سے آپ کا کوئی تعلق نہیں۔ اب مالک مکان کیا کریں۔ ان کے کچھ دوستوں نے مشورہ دیا کہ اگر تم مکان خالی کرانے کے لئے مقدمہ کرو تو اس کے فیصلہ میں دس سال لگ جائیں گے۔ تم ایسا کرو کہ کچھ آدمی جمع کرو اور مکان میں گھس کر زبردستی کرایہ دار کو نکال دو اور اس پر قبضہ کر لو۔ مالک مکان نے ایسا ہی کیا۔ مگر کرایہ دار بھی ہوشیار تھا۔ جب مالک مکان نے ”حملہ‘‘ کیا تو اس نے فوراً پولیس کو رپورٹ کر دی۔ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور مالک مکان پر فوجداری مقدمہ قائم ہو گیا۔ مقدمہ تقریباً دس سال تک چلتا رہا اور ایک کے بعد ایک مقدمے بنتے چلے گئے ۔ مکان کا مسئلہ اپنی جگہ قائم رہا۔ اور فوجداری مقدمات کی پیروی میں مالک مکان بر باد ہو کر رہ گئے۔ مزید یہ کہ فوجداری جرم کی وجہ سے ان کی سرکاری ملازمت بھی ختم ہو گئی۔

اس واقعہ میں سبق ہے کہ آدمی کو اولاً اپنے اخراجات کو اتنا بڑھانا نہیں چاہئے کہ اس کو اپنا مکان ’’گروی‘‘ رکھ دینا پڑے یا اگر بالفرض اس سے غلطی ہو جائے تو اس کو ایسا نہ کرنا چاہئے کہ اس کی کسی نادانی سے اس کے مکان‘‘ کا ر ہا سہا حصہ بھی اس سے چھن جائے ، اور بالفرض اگر اس سے غلطی بھی ہو جائے تو یہ تو کبھی نہ کرنا چاہئے کہ اپنے کسی اقدام سے وہ اپنے کو فوجداری مجرم بنالے کیوں کہ فوجداری مقدمات میں پھنسنے کا انجام صرف بر بادی ہے ۔ جو کچھ آپ سے کھویا گیا ہے اس سے آپ آغاز نہیں کر سکتے۔ اس لئے جو کچھ آپ کے پاس ہے اس سے اپنے عمل کا آغاز کیجئے یہی زندگی کی کامیابی کا راز ہے۔ یہ مزاج جب اجتماعی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اور بھی زیادہ تباہی برپا کرتا ہے۔ کچھ لیڈر جو اپنے بل پر اپنا سیاسی مقصد حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوتے وہ دوسروں کے ساتھ سیاسی اتحاد کا طریقہ اختیار کرتے ہیں اور متحدہ طاقت سے اپنا مقصد حاصل کرتے ہیں اور اس کے بعد ایک فریق اپنی ہوشیاری سے فائدہ اٹھا کر کے سیاسی فوائد پر قبضہ کر لیتا ہے۔ اب دوسرا فریق برہم ہو کر اس کے خلاف ایجی ٹیشن چلاتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ خود اور پوری قوم تہس نہس ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page