سیاست ، سیاست ، سیاست
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۱۶
کے سینہ میں اللہ کے ڈر کا کوئی خانہ ہوتا۔ وہ اس طرح رہتے ہیں جیسے کہ وہ آزاد ہیں کہ جو چاہیں کریں۔ ان کے سامنے سارا سوال بس دنیا کے نفع نقصان کا ہوتا ہے۔ جس کام میں نفع نظر آئے، اس کی طرف دوڑنا اور جس کام میں نقصان کا اندیشہ ہو، اس سے رک جانا، یہ ان کا مذہب ہوتا ہے۔ کسی چیز کا اصولی طور پر برحق ثابت ہو جانا ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ وہ ہمیشہ دلیل کے بجائے “ مفاد “ کو اصل اہمیت دیتے ہیں۔ کوئی کام کرتے ہوئے وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اس معاملہ میں اللہ کی مرضی کیا ہے یا یہ کہ وہ اللہ کے سامنے کیوں کر بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔ وہ وہاں جھک جاتے ہیں جہاں ان کا نفس جھکنے کے لیے کہے ۔ اور وہاں اکڑ جاتے ہیں جہاں ان کا نفس اکڑنے کی ترغیب دے۔ وہ اللہ سے بے خوف زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تاکہ اللہ کی عدالت میں حساب دینے کے لئے کھڑے کر دئے جائیں۔
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے دل میں حرام و حلال کا لحاظ رہتا ہے۔ ان کو یہ خیال آتا رہتا ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے یہاں حساب کتاب کے لئے حاضر ہونا ہے۔ عام حالات میں وہ اللہ سے ڈر کر زندگی گزارتے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں کسی کو ان سے حق تلفی اور بے اخلاقی کا تجربہ نہیں ہوتا۔ تاہم وہ اپنی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اٹھے ہوئے نہیں ہوتے۔ ان کا خوف خدا اتنا مکمل نہیں ہوتا کہ وہ ان کے نفس کے اندر چھپے ہوئے جذبات کا احاطہ کرے۔ عام حالات میں وہ خدا ترس زندگی گزارتے ہیں۔ مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیش آئے تو اچانک وہ دوسری قسم کے انسان بن جاتے ہیں۔ کبھی کسی کی محبت کا لحاظ، کبھی کسی کے خلاف نفرت کا جذبہ، کبھی اپنی عزت کا سوال ان کے اوپر اس طرح غالب آتا ہے کہ ان کا خوف خدا اس کے نیچے دب کر رہ جاتا ہے۔ یہ عمل چونکہ اکثر غیر شعوری طور پر ہوتا ہے اس لئے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوپر اپنے نفس کے اس حملہ سے آگاہ ہوں اور اپنے آپ کو تھامتے ہوئے اپنے کو منقیانہ روش پر قائم رکھیں ۔ معمول کے حالات میں خدا ترسی کی زندگی گزارنے والا غیر معمولی حالات میں وہی کچھ کر گزرتا ہے جو پہلی قسم کے لوگ اپنی عام زندگی میں کرتے رہتے ہیں ۔
تیسرا انسان وہ ہے جو پورے معنوں میں اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ جو اللہ کو پہچاننے کے ساتھ خود اپنے آپ کو بھی پوری طرح پہچان چکا ہو۔ ایسا شخص صرف عام حالات ہی میں اللہ سے ڈرتا نہیں بلکہ غیر معمولی حالات میں بھی اللہ کا خوف اس کا نگراں بن جاتا ہے۔ کسی کی محبت جب اس کو بے خوفی کے راستہ پر لے جانا چاہتی ہے تو وہ فوراً اس کو دیکھ لیتا ہے۔ کسی سے چھپی ہوئی نفرت جب اس کے نفس میں تیرتی ہے اور اس کو بے انصافی پر اکساتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے اور اس سے باخبر ہو کر اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ ذاتی عزت دو قار کا سوال جب اس کے اندر داخل ہو کر اس کو کسی حق کے اعتراف سے روکتا ہے تو وہ بلاتاخیر اس کو جان لیتا ہے، اس طرح وہ اپنی تمام خامیوں سے آگاہ ہو کر اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے۔ اس کا مسلسل احتساب اس کو ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو انتہائی بے لاگ نظر سے دیکھ سکے ۔ بالفاظ دیگر وہ اپنے آپ کو اس حقیقی نظر سے دیکھنے لگتا ہے جس نظر سے اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues