انقلاباتی خوش خیالیاں
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۱۵
انقلاباتی خوش خیالیاں
شیخ مجیب الرحمن کو پاکستانی حکمرانوں سے شکایت تھی۔ انھوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک چلائی۔ مگر جب بنگلہ دیش آزاد ہو چکا اور وہ اپنے بنائے ہوئے ملک کے سربراہ اعلیٰ بن گئے تو وہ اگست ۵ ، ۱۹۷۱ کو خودان کے ہم وطنوں نے ان کو اور ان کے سارے خاندان کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش میں فوجی انقلاب کا سلسلہ چل پڑا۔ آخرے نومبر ۵ ، ۱۹۷۰ کو ابو طاہر ایک خونین انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے۔ موجودہ صدر ضیاء الرحمن اگر چہ اس وقت جیل میں تھے مگر یہ انقلاب کرنل طاہر اور ضیاء الرحمن کے مشترکہ منصوبہ کا نتیجہ تھا۔ چنانچہ انقلاب کے بعد ضیاء الرحمن تخت اقتدار پر بٹھا دئے گئے۔ انقلاب سے پہلے ضیاء اور طاہر ایک دوسرے کے دوست تھے۔ مگر ضیاء الرحمن نے جب اقتدار حاصل کر لیا تو کرنل طاہر کا وجود ان کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ آنے لگا۔ ضیاء الرحمن نے کرنل طاہر کو گرفتار کر لیا۔ ان پر خصوصی عدالت میں مقدمہ چلا اور بالآخر انھیں گولی مار دی گئی۔ ایک مصنف اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ معنی خیز سوال اٹھاتا ہے:
Was his support to Zia a good revolutionary strategy or revolutionary romanticism that was bound to misfire. کرنل طاہر کا ضیاء الرحمن کی مدد کرنا ایک اچھی انقلابی تدبیر تھی یا وہ ایک انقلابی تخیل پسندی تھی جس کے لئے یہی مقدر تھا کہ اس کا نشانہ خطا کر جائے (ہندوستان ٹائمس ۴ نومبر ۱۹۷۹ )
اس سوالیہ جملہ کو مثبت جملہ بنا دیا جائے تو یہی موجودہ زمانہ کے اکثر مسلم انقلابیوں کے منصوبہ پر صادق آتا ہے۔ انھوں نے دوسرے عناصر کے ساتھ مل کر بڑے بڑے اقدامات کئے حتیٰ کہ بعض اوقات پورے پورے ملک کو ہلا ڈالا۔ مگر ان کا انقلاب جب اپنے آخری نتیجہ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس انقلاب کا سارا فائدہ دوسروں کے حصہ میں چلا گیا ہے۔ کامیابیوں کے ہجوم میں اس ناکامی کی واحد وجہ یہ ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا وہ انقلابی تدبیریں نہ تھیں بلکہ انقلابی خوش خیالیاں تھیں۔ اور حقائق کی اس دنیا میں خوش خیالیوں کی کوئی قیمت نہیں، خواہ ان خوش خیالیوں کے مصنف ایسے لوگ ہوں جن کے معتقدین نے ان کو قائد اکبر اور مفکر اعظم کے خطابات دے رکھے ہوں ۔
سیاست ، سیاست ، سیاست
روس میں اشتراکی انقلاب، ۱۹۱۷ میں آیا۔ اس سے پہلے وہاں زار کی شاہی حکومت قائم تھی ، انقلاب سے پہلے وہاں جو اشترا کی تحریک چل رہی تھی اس کا ایک لیڈر جوزف اسٹالن تھا جو لینن کے مرنے کے بعد روس کا کمیونسٹ حکمراں بنا۔ اپنی تحریک کی کامیابی سے پہلے جوزف اسٹالن نے اشتراکی کارکنوں کے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا: "انقلاب لانے کے لئے ہم کو تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول اسلحہ، دوم اسلحہ، سوم اسلحہ، اور آخر میں پھر اسلحہ "۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے قائدین نے اس جملہ کو یوں بدل دیا : اسلام کو سربلند کرنے کے لئے ہم کو تین چیزوں کی ضرورت ہے ۔ اول سیاست ، دوم سیاست، سوم سیاست، اور آخر میں پھر سیاست ۔ مگر سیاسی طریق کار کے پیچھے اگر ضروری طاقت موجود نہ ہو تو وہ صرف سیاست برائے سیاست ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ کسی حقیقی نتیجہ تک پہنچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues