سیاست ، سیاست ، سیاست
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸
لوگوں کے لئے خوش نما کر دی گئی ہے محبت خواہشوں کی ۔ عورتیں، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر، نشان لگے ہوئے گھوڑے، مویشی اور کھیتی۔ یہ دنیوی زندگی کے سامان ہیں۔ اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔ کہو، کیا میں تم کو بتاؤں اس سے بہتر چیز۔ ان لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں ان کے رب کے پاس باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اور ستھری بیویاں ہوں گی اور اللہ کی رضا مندی ہوگی۔ اور اللہ کی نگاہ میں, اس کے بندے، جو کہتے ہیں اے ہمارے رب، ہم ایمان لے آئے۔ پس تو ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ وہ صبر کرنے والے ہیں اور سچے ہیں فرماں بردار ہیں اور خرچ کرنے والے ہیں اور پچھلی رات کو مغفرت مانگنے والے ہیں ۱۴ - ۱۳ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس لئے یہاں کی چیزوں میں آدمی کے لئے ظاہری کشش رکھی گئی ہے۔ اب خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو ظاہری کشش سے متاثر ہو کر دنیا کی چیزوں میں کھو جاتا ہے۔ اور کون ہے جو اس سے اوپر اٹھ کر آخرت کی ان دیکھی چیزوں کو اپنی توجہ کا مرکز بناتا ہے۔ آدمی کو دنیا کی چیزوں میں تسکین ملتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ماحول کے اندر ان کے ذریعہ سے وقار قائم ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہوں تو اس کے سب کام بنتے چلے جاتے ہیں, وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہی چیزیں اصل اہمیت کی چیزیں ہیں۔ اس کی دلچسپیاں اور سرگرمیاں سمٹ کر بیوی بچوں اور مال و جائیداد کے گرد جمع ہو جاتی ہیں یہی چیز آخرت کے تقاضوں کی طرف بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دنیا کی چیزوں کی اہمیت کا احساس آدمی کو آخرت کی چیزوں کی طرف سے غافل کر دیتا ہے۔ دنیا میں اپنے بچوں کے مستقبل کی تعمیر میں وہ اتنا مشغول ہوتا ہے کہ اس کو یاد نہیں رہتا کہ دنیا سے ماورا بھی کوئی ”مستقبل“ ہے جس کی تعمیر کی اس کو فکر کرنا چاہئے۔ دنیا میں اپنے گھر کو آباد کرنا اس کے لئے اتنا محبوب بن جاتا ہے کہ اس کو کبھی خیال نہیں آتا کہ اس کے سوا بھی کوئی ”گھر “ ہے جس کی آبادی میں اس کو لگنا چاہئے۔ دنیا میں دولت سمیٹنا اور جائیداد بنانا اس کو اتنا زیادہ قیمتی معلوم ہوتے ہیں کہ وہ سوچ نہیں پاتا کہ اس کے سوا بھی کوئی ”دولت“ ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے وہ اپنے کو وقف کرے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں صرف موجودہ عارضی زندگی کی رونق ہیں۔ اگلی طویل تر زندگی میں وہ کسی کے کام آنے والی نہیں۔
جو شخص آخرت کی مستقل زندگی کو اپنی توجہات کا مرکز بنائے, اس کی زندگی کیسی زندگی ہوگی۔ دنیا کی رونقیں اس کی نظر میں حقیر بن جائیں گی۔ وہ اس یقین سے بھر جائے گا کہ آخرت کا معاملہ تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرے گا اور سب سے زیادہ آخرت کا حریص بن جائے گا۔ معاملات میں وہ اپنی خواہش کے پیچھے نہیں چلے گا بلکہ اللہ کی عدالت کو سامنے رکھ کر اپنا رویہ متعین کرے گا۔ اس کے قول وعمل میں فرق نہیں ہوگا ۔ اس کا مال اپنا مال نہ رہے گا بلکہ خدا کے لئے وقف ہو جائے گا۔ اللہ کی راہ میں چلنے میں خواہ کتنی ہی مشکلیں پیش آئیں وہ پوری استقامت کے ساتھ اس پر قائم رہے گا۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوگا کہ اللہ کو چھوڑنے کے بعد کوئی نہیں ہے جو اس کا سہارا بنے۔ اس کا دل اللہ کی یاد سے اس طرح مچل اٹھے گا کہ وہ بے تابانہ اس کو پکارنے لگے گا۔ اس کی تنہائیاں اپنے رب کی صحبت میں بسر ہونے لگیں گی۔ اللہ کے عظمت و کمال کے آگے اس کو اپنا وجود سراپا غلطی نظر آئے گا۔ اس کے پاس کہنے کے لئے اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا کہ ــ اے میرے، رب مجھے معاف کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues