سیاست ، سیاست ، سیاست
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۱۶
تذکیر القرآن آل عمران ۳ اللہ کی گواہی ہے اور فرشتوں کی اور اہل علم کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ قائم رکھنے والا ہے انصاف کا ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ زبردست ہے ، حکمت والا ہے ۔ دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے ۔ اور اہل کتاب نے اس میں جو اختلاف کیا وہ آپس کی ضد کی وجہ سے کیا ، بعد اس کے کہ ان کو صحیح علم پہنچ چکا تھا ۔ اور جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرے تو اللہ یقیناً جلد حساب لینے والا ہے۔ پھر اگر وہ تم سے اس بارے میں جھگڑیں تو ان سے کہہ دو کہ میں اپنا رخ اللہ کی طرف کر چکا اور جو میرے پیرو ہیں وہ بھی ۔ اور اہل کتاب سے اور ان پڑھوں سے پوچھو کیا تم بھی اسی طرح اسلام لاتے ہو۔ اگر وہ اسلام لائیں تو انھوں نے راہ پالی۔ ۔ اور اگر وہ پھر جائیں تو تمھارے اوپر صرف پہنچا دینا ہے ۔ اور اللہ کی نگاہ میں ہیں اس کے بندے ۔ جو لوگ اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو مار ڈالتے ہیں جو لوگوں میں سے انصاف کی دعوت لے کر اٹھتے ہیں ، ان کو ایک دردناک سزا کی خوش خبری دے دو ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال بنیاد اور آخرت میں ضائع ہو گئے اور ان کا مددگار کوئی نہیں ۱۸-۲۲ کائنات کا خدا ایک ہی خدا ہے اور وہ عدل و قسط کو پسند کرتا ہے ۔ تمام آسمانی کتابیں اپنی صحیح صورت میں اسی کا اعلان کر رہی ہیں ۔ پھیلی ہوئی کائنات جو اس کا مالک اپنے غیر مرئی کارندوں (فرشتوں) کے ذریعہ چلا رہا ہے وہ کامل طور پر ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے ۔ ثابت شوہ علم انسانی کے مطابق کائنات ایک حد درجہ وحدانی نظام ہے ، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کا مدبر صرف ایک ہے ۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز کا اپنے محل مناسب میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خدا عدل کو پسند کرنے والا خدا ہے نہ کہ بے انصافی کو پسند کرنے والا ۔ پھر جو خدا وسیع تر کائنات میں مسلسل عدل کو قائم کئے ہوئے ہو وہ انسان کے معاملہ میں خلاف عدل باتوں پر کیسے راضی ہو جائے گا۔
کائنات کا ہر جزر کامل طور پر "مسلم" ہے ۔ یعنی اپنی سرگرمیوں کو اللہ کے مقررہ نقشہ کے مطابق انجام دیتا ہے ۔ ٹھیک یہی رویہ انسان سے بھی مطلوب ہے ۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کے مطلوبہ نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے ۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا مرکزِ توجہ بنانا یا یہ خیال کرنا کہ اللہ کا فیصلہ عدل کے سوا کسی اور دنیا پر ہو سکتا ہے ، ایسی بے اصل بات ہے جس کے لئے موجودہ کائنات میں کوئی گنجائش نہیں ۔
قرآن کی دعوت اسی سچے اسلام کی دعوت ہے ۔ جو لوگ اس سے اختلاف کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کا حق ہونا ان پر واضح نہیں ہے ۔ اس کی وجہ ضد ہے۔ اس کو ماننا انھیں دائی قرآن کی فکری برتری تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، اور ان کی حسد اور کبر کی نفسیات اس قسم کا اعتراف کرنے پر راضی نہیں۔ سیدھی طرح حق کو مان لینے کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ اس زبان ہی کو بند کر دیں جو حق کا اعلان کر رہی ہے ۔ تاہم خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ داعی حق کی زبان کو بند کرنے کے لئے ان کا ہر منصوبہ ناکام ہوگا اور جب خدا کے عدل کا ترازو کھڑا ہو گا تو وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے دہ اعمال کس قدر بے قیمت تھے جن کے بل پر وہ اپنی نجات اور کامیابی کا یقین کئے ہوئے تھے ۔ ـــــ سچی دلیل خدا کی نشانی ہے ۔ جو شخص دلیل کے سامنے نہیں جھکتا وہ گویا خدا کے سامنے نہیں جھکتا ۔ ایسے لوگ قیامت میں اس طرح اٹھیں گے کہ وہ سب سے زیادہ بے سہارا ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues