Al-Risala · January 1980 · page 13

آپ کا اخلاق

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۳

آپ کا اخلاق

فرانس کے مشہور فلسفی والٹیر (۱۷۷۸-۱۶۹۴) نے کہا تھا کہ کوئی شخص اپنے قریبی لوگوں میں ہیرو نہیں ہوتا۔ No one is A Hero To His valet کیوں کہ قریبی لوگوں کی نظر میں آدمی کی نجی زندگی ہوتی ہے اور نجی زندگی میں کوئی بھی کامل نہیں ہوتا۔ دور والوں کو ایک شخص جتنا اچھا معلوم ہوتا ہے، قریب کے لوگوں کو وہ اتنا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ اس لئے قریبی لوگوں کے اندر اس کے بارے میں ہیرو کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ مگر سورن اسمتھ نے لکھا ہے کہ یہ کلیہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق نہیں آتا، کیوں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ آپ سے قریب تھا، اتناہی زیادہ وہ آپ کی خوبیوں کا شیدائی تھا۔

زید بن حارثہ رضی اللہ قبیلہ کلب کے ایک شخص حارثہ بن شراحیل کے لڑکے تھے۔ ان کی ماں سعدی بنت ثعلبہ تھیں جو قبیلہ طی کی ایک شاخ بنی معن سے تعلق رکھتی تھیں۔ زید جب آٹھ سال کے تھے، اس وقت ان کی ماں ان کو لے کر اپنے میکے گئیں۔ وہاں بنی قین بن جسر کے لوگوں نے ان کے پڑاؤ پر حملہ کیا۔ وہ جو کچھ لوٹ کر لے گئے اس میں زید بھی تھے۔ اس کے بعد انہوں نے عکاظ کے میلے میں لے جا کر ان کو بیچ دیا۔ ان کو حکیم بن حزام نے خریدا جو حضرت خدیجہ رضہ کے بھتیجے تھے۔ وہ اس بچہ کو مکہ لائے اور غلام کی حیثیت سے اپنی پھوپھی کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا تو حضرت خدیجہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دے دیا۔ اس وقت زید کی عمرہ سال تھی۔ کچھ عرصہ بعد زید رضہ کے باپ اور چچا کو معلوم ہوا تو وہ مکہ آئے تاکہ اپنے بچہ کو حاصل کر کے اپنے ساتھ لے جائیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور کہا کہ آپ جو فدیہ لینا چاہیں ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔ آپ ہمارا بچہ ہم کو دے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کوئی فدیہ نہیں چاہئے۔ اگر لڑکا تمھارے ساتھ جانا چاہے تو تم اس کو لے جا سکتے ہو۔ آپ نے زید کو بلایا اور کہا ان کو پہچانتے ہو۔ انھوں نے کہا ہاں، یہ میرے باپ اور چچا ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ لوگ تم کو لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر تم چاہو تو ان کے ساتھ اپنے گھر جاسکتے ہو۔ زید رضہ نے جواب دیا: میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔ یہ سن کر ان کے باپ اور چچا بگڑ گئے۔ انھوں نے کہا: تم آزادی کو چھوڑ کر غلامی کو پسند کرتے ہو اور اپنوں کو چھوڑ کر غیروں میں رہنا چاہتے ہو۔ زید نے کہا: میں نے محمد کے اندر جو خوبیاں دیکھی ہیں اس کے بعد اب میں کسی کو بھی ان کے اوپر ترجیح نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد زید کے باپ اور چچا اپنے وطن کو واپس چلے گئے ۔ یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی خصوصیت کی طرف قرآن میں ان لفظوں میں اشارہ کیا گیا ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page