آپ کا اخلاق
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۴
سوئی کو ہاتھ میں لے کر پھینکا تو وہ ایک فاصلے پر جاکر کھڑی صورت میں زمین پر گرگئی ۔ اب اس نے دوسری سوئی پھینکی تو وہ پہلی سوئی کے سوراخ میں جاکر اٹک گئی۔ پھر اس نے تیسری سوئی پھینکی تو وہ دوسری سوئی کے سوراخ میں پیوست ہوگئی۔ اسی طرح وہ ایک ایک سوئی پھینکتا گیا اور ہر سوئی اپنے سے پہلے والی سوئی کے سوراخ میں داخل ہوتی چلی گئی، اور بالآخر بارہ سوئیوں کا ایک جال بن گیا۔ ہارون رشید حیرت کے ساتھ یہ تماشا دیکھتا رہا۔ آخر میں اس نے دس درہم ہاتھ میں لے کر آدمی کی طرف پھینکے اور کہا: خذھان لك (اس کو لے ، تجھ پر افسوس ہے) کاش تو نے کسی مفید کام میں یہ مہارت پیدا کی ہوتی۔
جب مسلمان زندہ تھے تو ان کو معلوم تھا کہ کرتب بازی میں اور ایک حقیقی کام میں کیا فرق ہے۔ مگر آج انہیں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ اس فرق سے بے خبر ہو کر کرتب بازی پر داد دے رہے ہیں جو صرف حقیقی عمل پر دی جانی چاہئے۔ قافیہ میں قافیہ ملانے والے شاعر، الفاظ کا گلدستہ بنانے والے مقرر، سیاسی شوشوں سے قوم کا مستقبل برآمد کرنے والے قائد، سب اسی قسم کے کرتب باز ہیں جیسے ہارون رشید کے زمانہ کا مذکورہ شخص۔ مگر ہارون رشید نے اپنے زمانہ کے کرتب باز سے کہا تھا کہ تیرا برا ہو ۔ جب کہ آج کے کرتب بازوں کو شان دار خطابات مل رہے ہیں اور ہر طرف ان کے استقبالیہ جلسوں کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ موجودہ زمانہ کے کرتب بازوں کی فہرست میں سب سے آگے وہ انقلابی قائدین ہیں جو تقریریںوں کے ذریعہ ہر روز شان دار محل کھڑے کرتے رہتے ہیں۔ ہارون کے زمانہ کے آدمی نے اگر سوئیوں کا کھیل دکھایا تھا تو یہ لفظوں کے کھیل دکھارہے ہیں۔ ایک قائد ایک " عظیم اسلامی اجتماع " میں تقریر کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنی پرجوش تقریر کو اس جملہ پر ختم کیا ۔ " مسلم نو جوانوں کو میرا پیغام ہے کہ کفر کے چراغ کو جہاں پاؤ بجھا دو" اس قسم کی مجاہدانہ تقریر آج ساری مسلم دنیا میں گونج رہی ہے ۔ انھوں نے مسلم نوجوانوں کو انتہائی جذباتی بنا دیا ہے مگر" کافر اقوام" پر ان کا بس نہیں چلتا۔ کیوں کہ ان قوموں نے طاقت کے تمام اسباب جمع کر کے اپنے کو انتہائی طاقت ور بنا لیا ہے اور مسلمان ان کے مقابلہ میں ہر لحاظ سے بے حد پیچھے ہیں۔ تاہم لوگوں کے بڑھے ہوئے جوش جہاد کو کوئی نشانہ درکار تھا۔ چنانچہ اب ہر ایک نے خود اپنے مسلم بھائیوں میں " کفر کے چراغ " دریافت کر لئے ہیں اور ہر ایک ان کو بجھانے میں مشغول ہے۔ کہیں یہ جہاد گولیوں کی بوچھار کے ذریعہ جاری ہے اور جہاں اس کے مواقع نہیں ہیں وہاں اس سے کمتر کسی کارروائی کی صورت میں۔ کفر کا چراغ بجھانے کا نعرہ عملاً اسلام کا چراغ بجھانے کے ہم معنی بن گیا ہے۔ کہیں خود ہیں خود اپنے ملک پر چڑھائی کر کے فتوکر جھنڈے گاڑ رہے ہیں ۔ کہیں قائدین خود اپنے ہی سیاسی حریفوں کو تلاش کر کے مجاہد کا لقب لے رہے ہیں اور یہ کو بار ث۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues