Al-Risala · March 1980 · page 38

موت کے بعد کا جہنم نظر نہیں آتا

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۳۸

(انگریزی سے ترجمہ)

محمدؐ کی شخصیت کے بارے میں مکمل صداقت کو جاننا بہت ہی مشکل ہے۔ میں تو صرف اس کی بعض جھلکیوں کو پاسکتا ہوں۔ کتنے خوبصورت مناظر کیکے بعد دیگرے ڈرامائی طور پر سامنے آتے رہتے ہیں ؀ محمد پیغمبر، محمد جنرل، محمد حکمران، محمد غازی، محمد تاجر، محمد مبلغ، محمد فلسفی، محمد سیاست داں، محمد خطیب، محمد مصلح، محمد یتیموں کا ملجا، غلامی کا حامی، محمد حچ ، محمد پیشوا۔ ان تمام خوبصورت ادوار میں، انسانی اعمال کے ان تمام دائروں میں آپؐ ایک ہیرو معلوم ہوتے ہیں۔

یتیمی کی حالت بے چارگی کی آخری انتہا ہے اور اس دنیا میں آپؐ کی زندگی اسی انتہا سے شروع ہوئی ۔ حکمرانی مادی طاقت کی انتہا ہے، اور اس دنیا میں آپؐ کی زندگی اسی پر ختم ہوئی ۔

ایک یتیم بچے اور مظلوم مہاجر سے ابتدا کر کے آپ ایک پوری قوم کے روحانی اور مادی حاكم اعلیٰ اور اس کی تقدیر کے مالک بن گئے۔ اس عمل کے دوران پیش آنے والے امتحانات و ترغیبات، مشکلات و تغیرات، روشنیاں اور سائے، اونچ نیچ، دہشت اور عظمت کے دوران وہ دنیا کے امتحان میں کامیاب ہو کر زندگی کے ہر میدان میں ایک نمونہ بن کر ظاہر ہوئے۔ ان کی کامیابیاں زندگی کے کسی ایک میدان سے متعلق نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام احوال پر حاوی ہیں۔

مثال کے طور پر عظمت اگر یہ ہے کہ بربریت اور مکمل اخلاقی تاریکی میں پڑی ہوئی قوم کو پاک کیا جائے تو جس نے اس پوری قوم کی کایا پلٹ دی، اس گری ہوئی قوم کو اتنا اونچا اٹھا دیا کہ وہ تہذیب و معرفت کی روشنی کی حامل بن گئی، اس عظیم شخصیت کو عظمت کا دعویٰ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اگر عظمت یہ ہے کہ کسی سوسائٹی کے تنفر عناصر کو آپس میں بھائی چاری اور خیر خواہی کے روابط میں جوڑ دیا جائے تو صحرا میں ہونے والے نبی کو عظمت کے امتیاز کا پورا حق حاصل ہے۔ اگر عظمت ذلیل کن توہمات اور ہر قسم کی مہلک عادتوں میں مبتلا قوم کی اصلاح کرنا ہے، تو پیغمبر اسلام نے لاکھوں آدمیوں کے دل سے تو ہمات اور غیر معقول خوف کو نکال باہر کیا۔ اگر عظمت بلند اخلاق کا مظاہرہ ہے، تو محمدؐ کے دوستوں، دشمنوں سبھی نے ان کو "الامین" اور "الصادق" کا لقب دیا تھا۔ اگر فاتح عظیم ہوتا ہے، تو محمدؐ بھی ایک مجبور یتیم اور عام انسان کی زندگی سے بلند ہو کر جزیرہ عرب کے حاکم بن گئے جو کہ خسرو اور قیصر کا ہم پلہ منصب تھا۔ محمد وہ تھے جنہوں نے ایک عظیم سلطنت قائم کی جو کہ ان گزری ہوئی چودہ صدیوں میں بھی برقرار ہے۔ اگر لیڈر کے لئے اس کے تابعین کا احترام اس کی عظمت کا معیار ہے تو پیغمبر کا نام آج بھی دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کروڑوں لوگوں کے لئے جادو کی حیثیت رکھتا ہے۔

انھوں نے ایتھنز، روم، فارس، ہندوستان یا چین میں فلسفہ کی تعلیم نہیں حاصل کی تھی۔ لیکن انھوں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page