Al-Risala · March 1980 · page 37

موت کے بعد کا جہنم نظر نہیں آتا

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۳۷

دس گنا زیادہ فائدہ مند ہے جو ان کے ذریعہ کھیتوں اور باغوں میں فصل کے اضافے سے حاصل ہوتا ہے۔ شہد کی بھیاں جس طرح اپنا پیچیدہ کام کرتی ہیں وہ دنیا کی تمام سلطنتوں سے زیادہ کامیاب قسم کا نظام سلطنت ہے، تاہم ایک انسان کے لئے شہد کی مکھیاں پالنا انتہائی آسان کام ہے۔ شہد کی مکھیاں فطری طور پر اپنے کارکردگی کے نظام کی حد درجہ پابند ہوتی ہیں۔ ان کی سردار ایک ملکہ ہوتی ہے جس کے گرد ان کی تمام سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں۔ انڈے دینے کا کام یہی ملکہ کرتی ہے۔ ایک ملکہ روزانہ تقریباً ایک ہزار انڈے دیتی ہے، نر مکھیوں کا کام چھتے کا انتظام اور حفاظت ہے اور مادہ مکھیوں کا کام پھولوں کا رس لا کر شہد بنانا صبح سے شام تک لگاتار یہ عمل جاری رہتا ہے۔ ایک چھتے میں تقریباً ۱۰ ہزار مکھیاں ہوتی ہیں۔ شہد کی مکھیوں کا بکس گویا قدرت کے اسی نظام کو اپنے لئے استعمال کرنا ہے۔ خاص طرح کا بکس جس میں تقریباً ایک درجن چھتے بنانے کا انتظام ہوتا ہے، جتنی تعداد میں چاہے حاصل کر لیجئے۔ اور ان میں ملکہ اور مکھیاں لاکر رکھ دیجئے ۔ یہ سب چیزیں حکومت کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں، بس اس کے بعد بقیہ کام مکھیاں خود بخود شروع کر دیں گی۔ ایک بکس کے ذریعہ سال میں تین سے پانچ کلو گرام تک شہد حاصل ہوتا ہے۔ شہد کتنی قیمتی چیز ہے، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک کلو گرام شہد کی غذائی ضرورت بارہ کلو گرام سیب یا ۲۰ کلو گرام گاجر کے برابر ہے۔

شہد کی مکھیوں کا نظام اتنا حیرت انگیز ہے اور اس کے اتنے زیادہ پہلو ہیں کہ اس پر موٹی موٹی کتابیں لکھی گئی ہیں اور اب بھی ان کی حیرت انگیز کارکردگی کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ مثلاً تحقیق کے دوران یہ معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھیاں شہد جمع کرنے کا کام صرف دن میں کر سکتی ہیں۔ روشنی کے علاوہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی منزل کا رخ سورج کے زاویہ سے مقرر کرتی ہیں۔ صبح بالکل سویرے سے شہد کی مکھیوں کی اڑان شروع ہو جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پھیرا ممکن ہو سکے، کچھ مکھیاں پھولوں کا رس نکال کر لاتی ہیں اور کچھ صرف رہبری کا کام انجام دیتی ہیں۔ رہبر مکھیوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لمبی اڑانیں بھر کر یہ معلوم کریں کہ شہد حاصل کرنے کے لئے پھول کہاں کہاں مل سکتے ہیں۔ وہ پتہ کرنے کے بعد دوسری مکھیوں کو وہاں پہنچنے میں رہنمائی کرتی ہیں ۔

صبح کے وقت جتنے کم اجالے میں شہد کی مکھیوں کا سفر شروع ہوتا ہے ، اگر شام کا آخری پھیرا بھی اتنا اجالا رہنے پر شروع کیا جائے تو کئی میل کے سفر کے بعد مکھی جب شہد لے کر اپنے چھتے کی طرف لوٹے گی تو اندھیرا ہو چکا ہوگا اور اس کے لئے چھتے تک پہنچنا ناممکن ہو جائے گا۔ چنانچہ شہد کی مکھی صبح کو سفر کا آغاز کسی قدر اندھیرے میں کر دیتی ہے۔ مگر شام کو جب لوٹنا ہوتا ہے تو کافی اجالا رہتے ہوئے آخری واپسی کا سفر شروع کرتی ہے تاکہ اجالے اجالے میں وہ اپنے چھتے تک پہنچ جائے ۔ یہ خدا کا نظام اصلاح ہے جو کائنات میں قائم ہے۔ انسان کو بھی اپنے معاملات میں اس کی پیروی کرنا ہے ورنہ وہ خدا کے یہاں مفسد قرار پائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page