موت کے بعد کا جہنم نظر نہیں آتا
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۴۱
جب کہ البیرونی نے چالیس سال تک سفر کر کے معدنیات کے نمونے حاصل کئے، جبکہ مسلم علمائے فلکیات بارہ بارہ سال سے زیادہ کے مطالعہ کو مدون کر رہے تھے، ارسطو نے فرکس پر بغیر ایک بھی تجربہ کئے ہوئے قلم اٹھایا، طبی تاریخ پر اس نے اتنی لاپرواہی سے لکھا کہ کہ اس نے اس بات کی بھی ضرورت نہیں سمجھی کہ ”انسان کے دانت جانور سے زیادہ ہوتے ہیں،“ کا دعویٰ کرنے سے پہلے اس کی تصدیق بھی کر لیتا۔ جو کتنا آسان کام تھا۔ جالینوس نے، جس کو قدیم علم تشریح کا سب سے بڑا استاد سمجھا جاتا ہے، لکھا ہے کہ نچلا جبڑا دو ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس بات کو صدیوں تک تسلیم کیا جاتا رہا یہاں تک کہ عبد اللطیف نے انسانیت ڈھانچہ کا مطالعہ کیا۔ اس قسم کے بہت سے واقعات بیان کرنے کے بعد رابرٹ بریفالٹ نے (The Making of History) میں لکھا ہے: ”ہماری سائنس عربوں کی صرف اس حد تک مقروض نہیں ہے کہ انھوں نے حیرت انگیز دریافتیں کیں یا انقلابی نظریات کی بنیاد ڈالی۔ ہماری سائنس عرب تہذیب کی اس سے کہیں زیادہ مقروض ہے: وہ خود اپنے وجود کے لئے عرب تہذیب کی مقروض ہے۔ “ اسی مؤلف نے مزید لکھا ہے: ”یونانیوں نے نظاموں کی بنیاد رکھی، عمومیات کا رواج نظریات بنائے، لیکن تلاش کے صبر آزما طریقے، ایجابی معلومات کا جمع ہونا، سائنس کے دقیق طریقے، مفصل اور طویل تجربات تجرباتی مطالعہ۔ یہ سب چیزیں یونانی مزاج کے لئے اجنبی تھیں۔ جس چیز کو ہم یورپ میں سائنس کہتے ہیں، وہ تلاش کے نئے طریقوں، تجربات، مطالعہ، وزن کرنے اور ریاضیات کی ترقی کی وجہ سے وجود میں آئی ہے اور یہ بطور طریقے یونانیوں کو معلوم نہ تھے۔ ... عربوں نے اس مزاج اور بطور طریقوں کو یورپ میں روشناس کرایا۔ “ پیغمبر محمدؐ کی تعلیمات کی عملی نوعیت نے ہی سائنسی اسپرٹ کو جنم دیا۔ ان کی تعلیمات نے روزمرہ کی محنت اور دنیاوی امور کو احترام و تقدس عطا کیا۔ قرآن کا کہنا ہے کہ اللہ نے انسان کو عبادت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ لیکن یہاں عبادت کا اپنا خاص مفہوم ہے۔ اسلام میں اللہ کی عبادت صرف نماز تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہر وہ کام جو اللہ کی خوشنودی اور انسانی کی بھلائی کے لئے کیا جائے وہ بھی عبادت ہی کا جزرا ہے۔ زندگی کے تمام معاملات اسلام کی نظر میں تقدس کے حامل ہیں بشرطیکہ ان کو امانت داری، انصاف اور خالص نیت سے کیا جائے۔ اسلام نے ”دینی“ اور ”غیر دینی“ معاملات کی حد بندی کا خاتمہ کر دیا۔ قرآن کا کہنا ہے کہ اگر تم پاک دٹھا رکھو اگر اللہ کا شکر ادا کرو تو یہ بھی ایک عبادت ہے ۔ پیغمبر اسلام کا کہنا ہے کہ اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھنا بھی ایک نیکی ہے جس کا بدلہ اللہ عطا کریں گے۔ پیغمبر کے ایک قول میں آیا ہے کہ ”اگر کوئی اپنی دل کی خواہش کو بھی پورا کرے تو اللہ پاک اس کو اجر دے گا بشرطیکہ اس کو حاصل کرنے کے طریقے جائز رہے ہوں“ یہ سن کر ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول ایسا کر کے وہ انسان صرف اپنے دل کی خواہش کو پورا کر رہا ہے ۔ پیغمبر نے فوراََ جواب دیا: ”اگر وہ اپنی خواہش پورا کرنے کے لئے کوئی غلط طریقہ اپناتا تو اس کو سزا ملتی۔ تو صحیح طریقہ اپنانے کی وجہ سے اسے انعام کیوں نہیں ملے گا۔ “ دین کو پوری طرح سے زندگی کو بہتر بنانے کے لئے وقف ہونا چاہئے نہ کہ وہ صرف چند دنیوی زندگی سے ماورا امور سے متعلق ہو۔ دین کے اس نئے تصور نے نئی اخلاقی قدروں کو جنم دیا۔ (کے۔ ایس۔ راما کرشنا راؤ) (رسال تاریخ ۱۹۰۰ء)
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues