Al-Risala · January 1980 · page 15

آزمائش کو قانون

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۵

آزمائش کو قانون

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی نظر میں کوئی شخص صادق الایمان (عنکبوت ۳) اور مستحق جنت (بقرہ ۲۱۴) صرف اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ فتنہ (آزمائش) میں پورا اتر ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نجات کا دار و مدار محض مقررہ فرائض کی ادائیگی پر نہیں ہے۔ بلکہ اس کا فیصلہ تمام تر اس لمحہ خاص میں انسان کے رویہ پر ہوتا ہے جب کہ اس کا رب اس کو آزماتا ہے ۔ ایک شخص مقررہ اعمال (نماز ، روزہ ، حج وغیرہ) تو خوب اہتمام کے ساتھ ادا کر رہا ہے مگر جب خلاف مزاج صورت پیش آئے یا غیر معمولی حالات میں بندہ خدا ہونے کا ثبوت دینا ہو تو وہ مومنانہ روش پر قائم نہ رہے۔ جو شخص ایسا کرے، گویا کہ وہ عین اس وقت ناکام ہو گیا جب کہ اس کو سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہئے تھا۔ بائبل کے الفاظ میں، آدمی رات بھر اپنے "محبوب" کے انتظار میں جاگتا رہا اور صبح کو ٹھیک اس وقت سو گیا جب کہ محبوب کی سواری اس کے پاس سے گزر رہی تھی۔

اسلام کا طریقہ

قرآن میں ارشاد ہوا ہے وَمَنْ يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً (نساء - ۱۰۰) جو کوئی وطن چھوڑے اللہ کی راہ میں ، وہ پائے گا اس کے مقابلہ میں جگہ بہت اور کشائش ۔ گویا جھگڑے کے مقام پر کٹ مرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ جب جھگڑے کی صورت پیدا ہو تو مقام عمل کو تبدیل کردو ۔ کوئی شخص انسانی خیر خواہی اور اعتماد علی اللہ کے جذبہ سے جب ایسا اقدام کرتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ خدا کی زمین بہت وسیع ہے۔ "مقام ہجرت " پر اس سے زیادہ بڑے مواقع اس کا انتظار کر رہے تھے جو مقام وطن پر اس کے لئے یا ہو سکتے تھے مومن اور غیر مومن کا فرق مومن وہ ہے جو غلطی کرکے پلٹ آئے۔ جو غصہ ہونے کے بعد معاف کر دے۔ عزت کا سوال جس کا اعتراف سے روکنے والا ثابت نہ ہو۔ اس کے برعکس جس کا حال یہ ہو کہ وہ غلطیوں میں پیشار ہے۔ کسی سے ایک بار غلطی ہو جائے تو اس کو معاف کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔ جو کسی حال میں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف نہ کرے ۔ وہ اللہ کی نظر میں مومن نہیں ہے، خواہ دنیا میں اس نے ایمان و اسلام کے کتنے ہی تمغے اپنے اوپر لگا ر کھے ہوں ۔ یہ بات آج خواہ کتنی ہی چھپی ہوئی ہو۔ آخرت کے دن وہ اس طرح کھل جائے گی کہ اندھے بھی اس کو دیکھیں اور پتھر بھی اس کو جان لیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا چاہے تو اس کو اپنی غلطی کی تاویل کے لئے خوبصورت الفاظ مل جاتے ہیں ، کوئی شخص دنیوی رونق اور مقبولیت حاصل کرے تو اس کی رونق اور مقبولیت وہ پردہ بن جاتی ہے جس میں اس کی ہر نالائقی چھپ جاتی ہے۔ مگر آخرت میں اس قسم کی کوئی چیز آدمی کے کام نہ آئے گی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page