Al-Risala · April 1980 · page 4

زبان والے بے زبان ہو جائیں گے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۴

جیسے وہ گونگا ہو گیا ہے اور اب اس کے پاس کہنے کے لئے کچھ نبھیں ہے۔ اس کا جرم اتنا زیادہ ثابت ہو چکا تھا کہ اب اس کو یہ کہنے کی ضرورت جی نہ تھی کہ میں مجرم ہوں۔ وہ خاموش تھا مگر اس کی خاموشی ہر گفتگو سے زیادہ یقینی صورت میں اس کے جرم کا اقرار بن گئی تھی (ہندوستان ٹائمس ۲۰ فروری ۱۹۸۰)

قرآن میں ارشاد ہوا ہے، کہ وہ سب تعریف اللہ کے لئے ہے۔ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تب تم اس کو پہچان لوگے جس کی تھیں خبر دی جا رہی ہے رسید حکیم آیاتہ ققص فونھا، نقل مذکورہ بالا قسم کے واقعات جو موجودہ زمانہ میں پیش آرہے ہیں وہ شاید اسی پیشین گوئی کی تصدیق ہیں۔ اللہ کی طرف سے پکارنے والے لوگوں کو آخرت کی چیتاونی دے رہے ہیں۔ مگر آدمی خدائی آواز پر توجہ نہیں دیتا۔ وہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے دلائل کا انبار لگا رہا ہے۔ داعئِ حق کے پیغام کو رد کر کے بھی موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو محفوظ اور مطمئن محسوس کر رہا ہے ۔ یہ دائمی حق کو ماننا اور اس کا ساتھ دینا اس کو ایسا کام نظر آتا ہے جس کی اسے کوئی ضرورت نہ ہو۔ مگر اس کی پوری زندگی حتیٰ کہ اس کے دل کے ارادے بھی خدا کے چھپے ہوئے انتظام کے تحت ریکارڈ کئے جا رہے ہیں قیامت جب آئے گی تو آدمی کے سامنے اس کی سابقہ زندگی کی یہ فلم اس طرح دہرا دی جائے گی کہ وہ اپنی سوچ، اپنا قول اور اپنا عمل سب کچھ آنکھوں سے دیکھے گا اور کانوں سے سنے گا۔ اس وقت انسان کا جو حال ہو گا اس کا ایک معمولی نقشہ مذکورہ اسکوٹر ڈرائیور کے انجام میں نظر آرہا ہے۔ آدمی اس وقت اتنا بد حواس ہو گا کہ وہ اپنے الفاظ بھول جائے گا۔ اس کے دلائل اس وقت بالکل بے معنی معلوم ہوں گے۔ اس کا انکار اس وقت ایک ایسی چیز کا انکار بن جائے گا جو ساری کائنات میں اسی طرح معلوم اور ثابت شدہ بن چکا ہو جیسے ہمارے سروں پر چمکنے والے سورج اور چاند۔

قیامت میں اس کی زندگی کی یہ فلم ہر آدمی کو بتا دے گی کہ جب وہ زبان سے حق کا انکار کر ظاہر اس وقت بھی اس کا دل حق کے دلائل کا وزن پوری طرح محسوس کر رہا تھا۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ اسٹیج پر اچھی اچھی تقریریں کرنے کے بعد جب وہ اپنے ماحول میں لوٹتا تھا تو وہ خود اپنے بولے ہوئے الفاظ کے خلاف عمل کرتا تھا۔ اس دن وہ دیکھے گا کہ وہ بظاہر ظلم کو مٹانے اور حق کو قائم کرنے کا نعرہ لگاتا تھا مگر اس کی ان کوششوں کی حقیقت ایک قیادت کی ہنگامہ کے سوا اور کچھ نہ تھی ۔ وہ اپنے کو حق کا حامی ظاہر کرتا تھا مگر وہ خدا کے اس بندے کا ساتھ دینے کے لئے نہ اٹھا جس کو خدا نے اس کے سامنے حق کا پیغام لے کر بھیجا تھا، اس دن آدمی دیکھے گا کہ کس طرح وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف دے کر قہقہے لگاتا تھا ۔ وہ کمزور کا آشیانہ اجاڑتا تھا اور طاقت ور کا استقبال کرتا تھا۔ وہ بظاہر دین اور اسلام کا نام لیتا تھا مگر جب ذاتی فائدوں اور مصلحتوں کا معاملہ آتا تھا تو اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے سوا ہر چیز کو نظر انداز کر دیتا تھا۔ وہ بظاہر اخلاق اور دین داری کی بات کرتا تھا مگر اس کا وہ دین جس پر وہ حقیقۃ قائم تھا وہ صرف خود غرضی ، تعصب ، حسد ، انتقام اور اپنے مقابلہ میں دوسرے کو چھوٹا ثابت کرنے کا جذبہ تھا۔ وہ حق کا علم بردار بنتا تھا مگر جب حق کے اعتراف کا وقت آیا تو صرف اس لئے حق کے اعتراف سے رک گیا کہ ایسا کرنے سے اس کا یا اس کی محبوب شخصیتوں کا وقار مجروح ہو جائے گا۔ وہ خدا کے قانون کے نفاذ کا نعرہ لگاتا تھا مگر جب اس کو اختیار ملاتو وہ خود ساختہ قانون چلانے لگا اور خدا کے اذن کے بغیر لوگوں کے جان اور مال اور آبرو کو اپنے لئے جائز کر لیا۔ وہ اپنی آنکھوں سے عیاناً دیکھے گا کہ وہ صرف اپنی ذات کی سطح پر ہی رہا تھا مگر جھوٹے الفاظ بول کرتا تھا کرتا تھا کہ وہ خدا اور آخرت کی سطح پر جی رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page