Al-Risala · April 1980 · page 5

اللہ کیلئے جھکنے والے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۵

اللہ کیلئے جھکنے والے

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب حقیقت سے پردہ اٹھایا جائے گا اور لوگ ساجدہ کے لئے بلائے جائیں گی تو دہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے جو اللہ کے سچے بندے نہ بنے تھے۔ ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ یہ حال ان لوگوں کا ہو گا جن کو دنیا میں سجدہ کے لئے بلا یا جاتا تھا مگر وہ سجدہ نہ کرتے تھے (قلم ۳۶) قیامت میں انسان کو جو رسوائی اور عذاب ہوگا اس کی سب سے بھیانک صورت وہ ہوگی جب کہ مالک کائنات اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظا ہوگا۔ وہ خدا جس نے ہم کو پیدا کیا، جس کے کھلانے سے ہم کھاتے ہیں اور جس کے چلانے سے ہم چلتے ہیں جس نے ہم کو وہ سب کچھ دیا جو ہمارے پاس ہے۔ ایسا عظیم اور محسن خدا ہے پر وہ انسان کے سامنے ہوگا۔ ایک طرف انسان ہوگا جس کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ دوسری طرف خدا ہو گا جس کے پاس ساری طاقتیں ہیں۔ انسان کا عجز اور خدا کی قدرت دونوں اپنی کامل صورت میں سامنے ہوں گے ۔ اس وقت انسان چاہے گا کہ خدا کی عظمت و جلال کے آگے جھک جائے مگر وہ جھک نہ سکے گا۔ وہ چاہے گا کہ اس کی خدائی کے آگے اپنی بندگی کا اظہار کرے مگر وہ اس اظہار پر قادر نہ ہوگا۔ حتیٰ کہ اپنے آقا اور محسن کے لئے حمد کے کلمات ادا کرنے سے بھی اس کی زبان گونگی ہو جائے گی۔ ایک طرف اللہ کے سچے بندے اپنے رب کے آگے اپنے کو ڈال کر حقیقت کا اعتراف کر رہے ہوں گے ۔ دوسری طرف وہ ذلت و رسوائی کا مجسمہ بنا ہوا کھڑا ہوگا۔ یہ ایسا ہولناک لمحہ ہوگا کہ انسان چاہے گا کہ کاش زمین پھٹ پڑے اور وہ اس کے اندر دھنس جائے۔ اس سے بڑی ذلت اور کیا ہو سکتی ہے کہ بندہ اپنے خالق اور مالک کے سامنے ہو مگر وہ اس کے آگے اپنی بندگی کا اقرار نہ کرسکے۔ واضح ہو کہ یہ حال صرف معروف قسم کے کافروں یا بے نمازیوں کا نہ ہوگا بلکہ ان لوگوں کا بھی ہوگا جو محض ظاہری سجدہ کرتے تھے، ان کی روح اللہ کے لئے سجد نہیں بنی تھی۔ جنھوں نے وہ سجدہ نہیں کیا جس کا طلب یہ ہوتا ہے کہ بندہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دے۔ وہ ہمہ تن اس کے آگے جھک جائے۔ بخاری نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :

یکشف ربنا عن ساقہ فیسجد لہ کل مومن و مومنة ويبقى من كان يسجد في الدنيا ريا و سمعة الله قیامت کے دن اپنے آپ کو ظاہر کرے گا۔ اس وقت مومن مرد اور عورتیں اللہ کے لئے سجدہ میں گر جائیں گے مگر جو شخص دنیا میں دکھانے اور سنانے کے لئے سجدہ کرتا تھا وہ سجدے میں جانا چاہے گا مگر سجدہ نہ کر سکے گا اس کی پیٹھ اکڑ جائے گی۔

فین ہب ليسجد فيعود ظهره طبقا واحدا (تفسیر ابن کثیر)

زندگی میں بار بار وہ لمحہ آتا ہے جب کہ ایک طرف آدمی کی انا ہوتی ہے اور دوسری طرف اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر جو شخص انانیت کا راستہ اختیار کرے اور اللہ کے حکم کے آگے نہ جھکے اس نے اللہ کو سجدہ نہیں کیا۔ اگر وہ متعین اوقات میں بظاہر ہر سجدہ کر رہا ہو تب بھی حقیقت کے اعتبار سے وہ سجدہ نہ کرنے والوں میں شامل ہے۔ اس نے ایسا سجدہ کیا ہے جو دنیا میں دیکھنے اور سننے والوں کو تو سجدہ معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی نظر میں وہ سجدہ نہیں۔ ایسے تمام لوگ آخرت میں اس اصلی حالت میں نمایاں ہو جائیں گے جہاں وہ باعتبار حقیقت دنیا میں تھے۔ دنیا میں ان کے سامنے اللہ کا حکم آیا مگر انھوں نے اس کو نظر انداز کیا۔ دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page