Al-Risala · April 1980 · page 8

اپنے اپنے شیشہ سے دیکھنا

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۸

اپنے اپنے شیشہ سے دیکھنا

پوڑی گڑھوال ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ ریتا سنہا اپنے شوہر کے ساتھ وہاں رہتی ہیں۔ ان کی نسبتی ماں (ساس) ان کے یہاں آئیں اور ریتا سنہا کے مکان میں اپنے لڑکے اور بہو کے ساتھ رہنے لگیں۔ بوڑھی خاتون کو جانوروں کا شوق تھا۔ ایک روز ان کو پاس کے جنگل میں بلی کے تین بچے مل گئے وہ ان کو اپنی شال میں لپیٹ کر اٹھا لائیں اور ان کو پالنا شروع کیا۔ وہ اکثر ان کو اپنے ساتھ لیے رہتیں۔ کچھ دنوں کے بعد خاتون نے اپنی بہو سے کہا کہ میرے لئے ایک آتشیں شیشہ (Magnifying Glass) لادو۔ خاتون کی فرمائش کے مطابق ان کو شیشہ فراہم کر دیا گیا۔

پوڑی گڑھوال میں ایک نیشنل پارک ہے جس میں شیر وغیرہ پالے گئے ہیں۔ اس سے پہلے خاتون اکثر پارک میں جانے اور شیر کو دیکھنے کا شوق ظاہر کرتی تھیں۔ مگر بلیاں اور آتشیں شیشہ مل جانے کے بعد ان کا شوق ٹھنڈا پڑ گیا۔ ان کے لڑکے ایک روز دفتر سے کچھ پہلے آگئے اور بتایا کہ آج میں نے آدھے دن کی چھٹی لے لی ہے۔ آج ماں کو لے کر پارک میں چلنا ہے تاکہ وہ شیر وغیرہ دیکھ سکیں۔ ریتا سنہا خاتون کے کمرہ میں گئیں تاکہ ان کو یہ خوش خبری پہنچائیں۔ مگر خاتون نے اس خبر میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ وہ اس وقت آتشیں شیشہ کے ذریعہ اپنی بلیوں کو دیکھ رہی تھیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا: میرے آتشیں شیشہ میں یہ بلیاں بڑی ہوکر مجھ کو شیر کی طرح دکھائی دیں۔ مجھ کو یہ سوچ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ میں خوبصورت شیروں کے ورمیان ہوں۔ میں کسی پارک یا کسی چڑیا گھر جانا نہیں چاہتی۔ کیوں کہ یہاں میں شیر کو صرف دور سے دیکھوں گی۔ یہاں میں ان کے ساتھ رہ رہی ہوں۔ (ٹائمس آف انڈیا ۳۱ دسمبر ۱۹۷۹)

یہ ایک بوڑھی معمولی تعلیم یافتہ خاتون کا قصہ ہے۔ مگر یہی ہمارے اکثر بڑے بڑے پڑھے لکھےلوں پر صادق آتا ہے۔ آج اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ انھوں نے اپنی پسند کا ایک آتشیں شیشہ خرید رکھا ہے جس میں خارجی حقیقتیں ان کو ویسی ہی دکھائی دیتی ہیں جیسا کہ وہ ان کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ کوئی بلی کو شیر کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے تو اس نے بڑھا کر دکھانے والا شیشہ حاصل کر لیا ہے۔ کوئی ہاتھی کو چیونٹی کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے تو اس نے ایسا شیشہ حاصل کر لیا ہے جس میں بڑی بڑی چیزیں بھی بہت چھوٹی ہو کر دکھائی دیں۔ حتیٰ کہ لوگوں کو ایسے شیشے بھی ہاتھ آگئے ہیں جن میں معنوی حقائق کی صورتیں بھی بدل کر دکھائی دیتی ہیں۔ کسی کے شیشہ میں اس کا اپنا وجود ہمالیہ پہاڑ کی مانند بلند اور دوسرے کا وجود راستہ میں پڑے ہوئے پتھر کی طرح بے قیمت دکھائی دیتا ہے۔ کسی کے شیشہ میں اپنی موشگافیاں طاقت در دلائل کی صورت میں نظر آتی ہیں اور دوسرے کے دلائل محض بے معنی الفاظ کا مجموعہ بن جاتے ہیں۔ کوئی اپنے شیشہ میں اپنے کام کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو عالمی سیلاب کی طرح دکھائی دیتا ہے اور جب وہ دوسرے کے کام کو دیکھتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔ کسی کے شیشہ میں اس کی اپنی ہر بات صحیح اور دوسرے کی ہر بات غلط نظر آتی ہے۔ ہر آدمی کے شیشہ نے اس کے لئے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ چیزیں اس کو ویسی ہی دکھائی دیں جیسا کہ وہ ان کو دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ ویسی جیسا کہ وہ حقیقت ہیں۔ کوئی چیز باعتبارِ اصل خواہ کچھ ہو، دیکھنے والے کو وہ اس کی اپنی پسند کے مطابق ہی نظر آتی ہے۔ خوش قسمتی کی قسم بھی کیسی عجیب ہے۔

(رسالہ اپریل ۱۹۸۰)

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page