Al-Risala · April 1980 · page 7

اللہ کیلئے جھکنے والے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۷

بندہ کو اپنے رب کے سامنے جو "سجدہ" کرنا ہے اس کے تین خاص مواقع ہیں۔ ایک موقع وہ ہے جس کو اعتراف حق کہا جا سکتا ہے ۔ اللہ اپنے کسی بندے کی زبان سے جب حق کا اعلان کرائے تو لوگوں کے اوپر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اس پر لبیک کہیں ۔ وہ اپنے رب کی آواز کو پہچانیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیں ۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو ان کی مثال اس بد قسمت بچے کی ہوگی جو اپنے حیران باپ کو دیکھنے کے لئے اندھا ہو جائے اور اس کی آواز کو سننے کے لئے اپنے کان کو بہرا کرلے ۔ خدا کی آواز اگر چہ ایک انسان کی زبان سے بلند ہوتی ہے مگر وہ ایک ایسی آواز ہوتی ہے جس کی تصدیق سارے زمین و آسمان کر رہے ہوتے ہیں اور آدمی کی اپنی فطرت پوری طرح جس کا ساتھ دے رہی ہوتی ہے۔ ایسی آواز کے آگے نہ جھکنا اتنا بڑا انکارِ سجدہ ہے جس کے بعد ظاہری سجدوں کی کوئی قیمت نہیں۔ سجدہ کے جانچ کا دوسرا میدان اللہ کی وہ میں قربانی ہے۔ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ وقت کے تمام ذرائع اور وسائل کو استعمال کر کے اس کا دین لوگوں تک پہنچایا جائے ۔ دین کی اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کا ممکن انتظام کیا جائے۔ کچھ مخالفین اگر خدا کے دین کو دبانا چاہیں تو اللہ کے وفادار بندے کھڑے ہو کر دین کی طرف سے دفاع کریں خواہ اس راہ میں ان کو اپنا سب کچھ لٹا دینا پڑے۔ یہ دین کے لئے قربانی کے مواقع ہیں ۔ جو لوگ ان مواقع پر اپنے جان و مال کو پیش کریں وہ جانچ میں پورے اترے اور جو لوگ اپنے جان و مال کو دین کی ضرورتوں میں نہ دیں وہ جانچ میں ناکام ہوگئے ۔ "سجدہ" کے امتحان کا تیسرا میدان روزمرہ کے انسانی تعلقات ہیں۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان معاملہ کرتے ہوئے جب بھی ایسا ہو کہ دو قسم کا رویہ سامنے آجائے۔ ایک وہ جو جس کا حکم اللہ نے دیا ہے، دوسرا وہ ہو جو اپنے جی کی خواہش کے مطابق ہے۔ اس وقت جو شخص اللہ کے حکم کے آگے جھک گیا وہ اللہ کے آگے سجدہ کرنے والا بنا اور جو شخص اپنے جی کی خواہش پر چلا اس نے گویا سجدہ سے انکار کر دیا۔ نماز میں رکوع کے لئے جھکنا اور سجدہ کے لئے گر پڑنا اگر حقیقی معنوں میں جھکنا اور گر پڑنا ہو تو مسجد کا سجدہ اور مسجد کے باہر کا سجدہ ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتے ، بلکہ دونوں ایک ہی واقعہ کی دو مختلف صورتیں بن جاتی ہیں ۔ اسی طرح روزہ میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑنا اگر سچے شعور اور جذبہ کے ساتھ ہو تو رمضان کے مہینے میں خدا کی ممنوعات کو چھوڑنا اور اس کے بعد زندگی کے معاملات میں خدا کی ممنوعات کو چھوڑ نا دو الگ چیزیں نہیں رہتیں ۔ بلکہ ایک ہی تصویر کے دو رخ بن جاتے ہیں ۔ جو شخص اس طرح سجدہ کرنے والا اور اس طرح روزہ رکھنے والا بن جائے وہ اللہ کی یاد میں جینے لگتا ہے ، راہ آخرت کی فضاؤں میں سانس لینے لگتا ہے۔ ایسے شخص کے لئے اللہ کے داعی کو پہچان کر اس کا اعتراف کر لینا یا اللہ کے دین کے لئے قربانی دینا ایسا ہی بن جاتا ہے جیسے کسی شخص کا اپنے محبوب بیٹے کو پہچاننا اور اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر دینا۔

آخرت کا دن سچائی کے اعتراف کا دن ہے ، اس دن وہی لوگ سچائی کے اعتراف کی توفیق پائیں گے جنھوں نے دنیا میں سچائی کے اعتراف کا ثبوت دیا ہو۔ آخرت کا دن مالک کائنات کے آگے جھکنے کا دن ہے، اس دن وہی لوگ مالک کائنات کے آگے جھکنے کے اہل ہوں گے جو دنیا کے معاملات میں اس کے آگے جھکنے والے بنے ہوں ۔ آخرت کا دن اللہ کی رحمتوں میں شامل ہونے کا دن ہے ۔ اس دن وہی لوگ اللہ کی نعمتوں میں شامل ہوں گے جنھوں نے اس وقت اللہ کی پکار پر لبیک کہا ہو جب کہ اللہ ابھی پردہ غیب میں ہے۔ آخرت کا دن وہ دن ہے جب کہ اللہ اپنی تمام نعمتیں اپنے بندوں پر انڈیل دے گا ، ایسے انعام میں حصہ پانے والا وہی شخص ہوسکتا ہے جس نے دنیا میں اپنے تمام اثاثہ کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page