Al-Risala · April 1980 · page 10

جنت اور جہنم

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۱۰

جنت اور جہنم

آخرت میں آدمی کو جو بدلہ دیا جائے گا وہ دنیا میں اس کے عمل ہی کا اخروی پہلو ہوگا۔ اس لئے عمل اور بدلہ دونوں ایک دوسرے کے انتہائی مطابق ہوں گے۔ ایک شخص سونا جمع کئے ہوئے ہے اور اللہ کا حصہ اللہ کے راستہ میں نہیں دیتا تو وہ سونا گویا آگ کا انگارہ ہے۔ موت کے بعد یہ سونا آگ کی صورت اختیار کر کے آدمی کے ساتھ چپک جائے گا (توبہ) حدیث میں اس قسم کی بہت سی مثالیں دی گئی ہیں کہ آدمی کا عمل اور اس کے اخروی نتائج کس طرح ایک دوسرے کے مطابق ہوں گے۔ معراج کے سفر سے متعلق جو روایات ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آسمانی سفر میں آپ کو جو چیزیں دکھائی گئیں ان میں وہ عالم مثال بھی تھا جہاں انسان کے دنیوی اعمال اپنی اخروی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ایک طرف آپ کو اچھے اعمال کی اخروی صورتیں دکھائی گئیں۔ مثلاً ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھیتی کاٹ رہے ہیں۔ وہ جتنی کھیتی کاٹتے ہیں اتنی ہی ان کی کھیتی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتہ سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح آپ کو تفصیل کے ساتھ برے اعمال کی اخروی صورتیں بھی دکھائی گئیں۔

آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے سر پتھروں سے کچلے جا رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی سرگرانی ان کو نماز کے لئے اٹھنے نہ دیتی تھی۔ اسی طرح آپ نے کچھ لوگ دیکھے جن کے کپڑوں میں بہت سے پیوند لگاے ہوئے تھے اور وہ جانوروں کی طرح گھاس چر رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرتے تھے۔ پھر آپ نے ایک شخص کو دیکھا۔ وہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کے اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اور جب وہ گٹھا اس سے نہیں اٹھتا تو وہ اس میں کچھ اور لکڑیاں بڑھا لیتا ہے۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہے۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ شخص ہے جس پر ذمہ داریوں اور امانتوں کا اتنا بوجھ تھا کہ وہ اٹھا سکتا تھا مگر وہ ان کو کم کرنے کے بجائے اور زیادہ ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے اوپر ڈال لیتا تھا۔ پھر آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کی زبانیں اور ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ مقرر ہیں جو بے روک ٹوک زبان چلاتے تھے اور غیر ذمہ دارانہ باتیں کہہ کر فتنہ برپا کرتے تھے۔ ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ ایک پتھر میں چھوٹا سا سوراخ ہوا اور اس میں سے ایک بڑا سا بیل نکل آیا۔ اس کے بعد وہ بیل دوبارہ اسی سوراخ میں جانے کی کوشش کرنے لگ مگر کوشش کے باوجود وہ دوبارہ اس کے اندر نہ جاسکا۔ آپ نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ اس آدمی کی مثال ہے جو بے پروائی کے ساتھ ایک فتنہ کی بات کہہ دیتا ہے۔ اس کے بعد اس کے برے نتائج دیکھ کر اس کو واپس لینا چاہتا ہے مگر واپس نہیں لے سکتا۔ اسی طرح ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جو خود اپنے جسم کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھارہے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دوسرے بھائیوں پر طعن و تشنیع کرتے تھے۔ کچھ اور لوگوں کو آپ نے دیکھا۔ ان کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اس سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پیچھے ان کی برائیاں کرتے تھے اور ان کی عزت و آبر وپر حملے کرتے تھے۔ کچھ لوگوں کو آپ نے دیکھا۔ ان کے ہونٹ اونٹوں سے ملتے جلتے تھے اور وہ آگ کھارہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال دنیا میں کھاتے تھے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے پیٹ بہت بڑے ہیں اور وہ سانپوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ آنے جانے والے ان کو روندتے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page