جنت اور جہنم
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۱۱
ہوئے گزرجاتے ہیں مگر وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ سود کھانے والے لوگ ہیں۔ پھر کچھ لوگ دکھائی دئے جن کے ایک جانب اچھا گوشت رکھا ہوا تھا اور دوسری جانب سڑا ہوا گوشت جس سے سخت بدبو آرہی تھی۔ وہ اچھے گوشت کو چھوڑ کر سڑا ہوا گوشت کھارہے تھے ۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ مرد اور عورتیں ہیں جنہوں نے جائز بیویوں اور شوہروں کو چھوڑ کر حرام سے اپنی خواہش پوری کی۔
جنت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قرآن میں جنت کو عطاء متشابہ کہا گیا ہے ، یعنی ایسا انعامات جو آدمی کے عمل سے ملتا جلتا ہو، ارشاد ہوا ہے کہ جنت میں جب کوئی پھل انہیں کھانے کے لئے دیا جائے گا تو اہل جنت کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے ہم کو دنیا میں دئے گئے تھے اور ان کو دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے پھل دئے جائیں گے (بقرہ ۲۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے انعام دنیا کے عمل کے عین مطابق ومماثل ہوں گے۔ دنیا میں کسی بنوہ خدا کو جس عمل کی توفیق ملی ہوگی اسی سے ملتا جلتا بدلہ جنت میں اس کے حصہ میں آئے گا۔
دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کسی صورت حال میں کس قسم کا جواب دیتا ہے۔ پتھر کے ساتھ کوئی صورت حال پیش آئے تو وہ اس کے جواب میں کوئی رویہ پیش نہیں کرتا۔ مگر انسان ایک احساس اور شعور رکھنے والی مخلوق ہے۔ انسان کے ساتھ جب کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو وہ اس کے اندر ہلچل پیدا کرتی ہے۔ وہ اس کے جواب میں اپنے ہاتھ یا زبان سے کوئی ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ ہر ایسے موقع پر خدا یہ دیکھتا ہے کہ آدمی نے اپنے فکر وعمل کی آزادی کو کس رخ پر استعمال کیا۔ اس نے گالی کے جواب میں گالی دی یا گالی کے جواب میں اس کی زبان سے دعائیں نکلیں۔ ہر صورت حال جو دنیا میں آدمی کے ساتھ پیش آتی ہے اس کے جواب کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جہنمی جواب ، دوسرا جنتی جواب۔ جہنمی جواب وہ ہے جو اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں ہے اور جنتی جواب وہ ہے جو اللہ کی مرضی کے مطابق ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک جواب دہ ہے جو شیطانی اخلاقیات کے مطابق ہو ، ایسے لوگ جہنم کے مستحق قرار پائیں گے۔ دوسرا جواب وہ ہے جو خدائی اخلاقیات کے مطابق ہو، ایسے لوگ جنت کے لطیف ماحول میں بسائے جائیں گے۔
شیطانی اخلاقیات یہ ہے کہ جب کوئی نا خوش گوار صورت حال پیش آئے تو آدمی بے خوف ہو کر جوابی کارروائی کرنے لگے۔ وہ نفرت کا جواب نفرت سے دے اور غصے کے مقابلہ میں غصہ کا تحفہ پیش کرے۔ اس کے برعکس خدائی اخلاقیات یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے۔ وہ وقتی جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچے اور نفرت اور محبت کی نفسیات سے بلند ہو کر معاملہ کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں ، جو مجھے کو محروم کرے میں اس کو دوں، جو مجھ پر ظلم کرے میں اس کو معاف کردوں (وان اصل من قطعني واعطی من حرمتی واعفو من ظلمنی) اس طرح کے مختلف احکام ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے سلوک سے بالاتر ہو کر ان کے ساتھ معاملہ کرے ۔ وہ منفی نفسیات کے مواقع پر مثبت نفسیات ظاہر کرے ۔ لوگوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ نا خوش گوار واقعات پیش آتے ہیں اور آدمی کے اندر مخالفانہ جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر مومن کو یہ کرنا ہے کہ مخالفانہ جذبات کو اندر ہی اندر دبا لے اور تلخی کے باوجود دوسروں کے ساتھ مثبت جذبات کے ساتھ پیش آئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues