تم غریب نہیں، ولت مند ہو
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۱۴
تم غریب نہیں، ولت مند ہو
’’بابا پیسہ دے، فقیر نے آواز لگائی۔ سننے والے نے دیکھا تو وہ ہاتھ پاؤں کا درست معلوم ہورہا تھا۔ اس نے کہا: تم کو پیسہ کیوں دیا جائے، فقیر بولا کہ میں غریب ہوں۔ آدمی نے کہا: نہیں تم غریب نہیں ہو۔ تم بہت دولت مند ہو۔ فقیر نے کہا: بابوجی مذاق نہ کیجئے۔ میرے پاس دولت کہاں، میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ میں تو بالکل غریب ہوں۔ آدمی نے کہا: اچھا تمہارے پاس جو کچھ ہے مجھے دے دو، میں اس کے بدلے تم کو پچاس ہزار روپیہ دیتا ہوں۔ فقیر نے اپنی جھولی کندھے سے اتاری اور کہا: میرے پاس تو بس یہی ہے۔ اس کو آپ لے لیجئے، آدمی نے کہا: نہیں تمہارے پاس اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ ۔ تمہارے پاس دو پاؤں ہیں۔ ایک پاؤں تم مجھ کو دے دو اور مجھ سے دس ہزار روپے لے لو۔ فقیر نے دینے سے انکار کیا۔ اب آدمی نے کہا: اچھا تمہارے پاس دو ہاتھ ہیں۔ ایک ہاتھ تم مجھ کو دے دو اور مجھ سے ۲۰ ہزار روپے لے لو۔ فقیر نے دوبارہ دینے سے انکار کیا۔ آدمی نے کہا: اچھا تمہارے پاس دو آنکھیں ہیں۔ ایک آنکھ تم مجھ کو دے دو اور مجھ سے ۲۰ ہزار روپے لے لو۔ فقیر نے اب بھی دینے سے انکار کیا۔ آدمی نے کہا: دیکھو تمہارے پاس دو پاؤں، دو ہاتھ اور دو آنکھیں ہیں۔ میں نے صرف ایک ایک کے دام لگائے تو پچاس ہزار روپے ہو گئے ساگر دونوں پاؤں، دونوں ہاتھ اور دونوں آنکھوں کا دام لگایا جائے تو ان کی قیمت ایک لاکھ روپے ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو تمہارے پاس جسم ہے جس میں بے شمار چیزیں ہیں اس کی صرف تین چیزوں کا دام بھی کم سے کم ایک لاکھ روپے ہے۔ پھر تم غریب کیسے ہو، تم تو بہت بڑے دولت مند ہو۔ تم بھیک مانگنا چھوڑ دو اور اپنی اس قیمتی دولت کو استعمال کرو۔ تم سے زیادہ کامیاب دنیا میں کوئی نہ ہوگا ۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے بڑی عجیب صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ عام حالات میں اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ البتہ کوئی چیز نہ رہے تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیسی قیمتی تھی۔ جیمز ٹامس دہلی کا ایک مشین آپریٹر ہے۔ اس کی عمر ۲۴ سال ہے۔ بیماری کی وجہ سے اس کے دونوں گردے خراب ہوگئے ۔ اس نے آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے لئے زندگی کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ کسی شخص سے ایک گردہ بطور عطیہ حاصل کرے، گردے ایک خالص قدرتی پیداوار ہے۔ کسی انسانی کارخانہ میں کھرب ہاکھرب روپیہ خرچ کر کے بھی گردہ بنایا نہیں جا سکتا۔ تاہم یہ قیمتی گردہ اگر کوئی شخص بطور عطیہ دے دے تو ڈاکٹروں کی فیس اور سرجری کے اخراجات چھوڑنے کے بعد بھی جیمز ٹامس کو ۴۵ ہزار روپے درکار تھے تاکہ یہ گردہ اس کے جسم میں نصب کیا جاسکے (ٹائمس آف انڈیا ۱۰ جنوری (۱۹۸۰) حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے پاس کچھ نہ ہو تب بھی اس کے پاس بہت کچھ ہوتا ہے، یہ جسم اور یہ دماغ جو ہم کو ملا ہوا ہے، یہ تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ آدمی اگر اپنے جسم دو دماغ کی صلاحیتوں کو بھر پور استعمال کرے تو وہ دنیا کی ہر کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ کوئی چیز اس کے لئے ناممکن نہیں۔ اگر آپ کے پاس ہاتھ ہے جس سے آپ پکڑیں اور پاؤں ہے جس سے آپ چلیں، آپ کے پاس آنکھ ہے جس سے آپ دیکھیں اور زبان ہے جس سے آپ بولیں تو گویا آپ کے پاس سب کچھ ہے۔ کیوں کہ ان کے ذریعہ سے دنیا کی تمام چیزیں حاصل کی جاسکتی ہیں، کوئی چیز بھی ان کے دائرہ سے باہر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues