Al-Risala · April 1980 · page 13

جنت اور جہنم

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۱۳

کا ثبوت دینا ہے۔ جب بددعا کے کلمات زبان سے نکلتے ہیں اس وقت اس کو دعا کے کلمات اپنی زبان سے ادا کرنا ہے۔ جب حقوق کو دبانے کا خیال آنے لگتا ہے اس وقت حقوق کو پورے انصاف کے ساتھ لوٹانا ہے۔ جب حق کا اعتراف کرنے میں اپنا وقار گرتا ہوا نظر آتا ہے اس وقت وقار کا خیال چھوڑ کر حق کا اعتراف کر لینا ہے۔ جب کسی کے خلاف جوابی کارائی کا ذہن ابھرتا ہے اس وقت جوابی کارروائی سے اپنے کو روک کر مخالفت کے ساتھ وہی کرنا ہے جو خیرخواہی اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ اگر آپ ٹرک پر سوار ہوں تو ٹرک پر دوڑتا ہوا ٹرک آپ کو زبردست جھٹکے دے گا۔ اس کے برعکس جب آپ ایک اچھی کار پر بیٹھتے ہیں تو تیز دوڑتے ہوئے بھی کار آپ کو جھٹکے نہیں دیتی۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ کار کے ساتھ اچھی قسم کی اسپرنگ لگی ہوئی ہوتی ہے اس کی وجہ سے کار اپنے تمام جھٹکوں کو اپنے پہیے پر لے لیتی ہے، وہ جھٹکے کو مسافر تک پہنچنے نہیں دیتی۔ اس کے برعکس ٹرک کی اسپرنگ بہت معمولی ہوتی ہے اس لئے اس کے جھٹکے مسافر تک پہنچتے رہتے ہیں۔ اللہ سے بے خوف آدمی ٹرک کی مانند ہے وہ اپنے اندر کے نفسیاتی جھٹکوں کو برداشت نہیں کرتا۔ وہ ان کو دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس اللہ سے ڈرنے والا آدمی کار کی مانند ہوتا ہے، وہ تمام جھٹکوں کو اپنے اوپر لے لیتا ہے، ان کو دوسرے انسان تک منتقل ہونے نہیں دیتا اسی کا نام صبر ہے۔ صبر یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے جو ناخوش گواریاں پیش آئیں ان کو آدمی اپنے اندر ہی اندر لے لے، ان کے اثرات دوسروں تک پہنچنے نہ دے۔ ناخوش گواری کے جھٹکوں کو اپنے اوپر لے کر دوسروں کی طرف خوش گواری کو منتقل کرے یہی وہ صلاحیت ہے جو آدمی کو جنت میں آباد کئے جانے کے قابل بناتی ہے۔ جنت وہ لطیف مقام ہے جہاں کثافت بھی بالکل خوش بو ظاہر ہوگی۔ ایسی لطیف آبادی میں رہنے کا مستحق صرف وہ شخص قرار دیا جائے گا جس نے دنیا کی زندگی میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ اپنی نفسیاتی کثافت کو خوش بو کی صورت میں خارج کر سکتا ہے، کثافت کا خوشبو کی صورت میں ظاہر ہوتا موجودہ دنیا میں نفسیاتی اعتبار سے ہوتا ہے، آخرت میں یہی واقعہ اللہ کے حکم کے تحت مادی صورت میں پیش آئے گا۔ ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ آدمی کے اپنے اعمال ہیں جو آخرت میں اس کو لوٹائے جائیں گے (انما ھی اعمالكم ترد اليكم) دنیا میں آدمی کے اخلاقی اعمال آخرت میں مادی نتائج کی صورت اختیار کر لیں گے۔ ہر واقعہ جو دنیا میں پیش آتا ہے اس میں آدمی کے دو قسم کے جواب کا امکان رہتا ہے۔ اسی سے فیصلہ ہوتا ہے کہ کون جنتی ہے اور کون جہنمی۔ کوئی حق بات سامنے آتی ہے، اب ایک شخص اس کا اعتراف کر لیتا ہے اور دوسرا شخص انکار کرتا ہے، رو کوئی معاملہ پڑتا ہے، اس میں ایک شخص انصاف پر قائم رہتا ہے اور دوسرا ظلم پر اتر آتا ہے، کوئی نا موافق صورت حال پیش آتی ہے، اب ایک شخص تواضع کا انداز اختیار کرتا ہے اور دوسرا شخص سرکشی کرنے لگتا ہے۔ کوئی باہمی قضیہ ابھرتا ہے، اب ایک شخص محبت اور خیر خواہی کا رویہ اپناتا ہے اور دوسرا شخص نفرت اور انتقام کا۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ردِّ عمل ہیں اور یہی آخرت کی زندگی میں آدمی کے انجام کی تشکیل کر رہے ہیں۔ ہمارے اخلاقی اعمال جب مادی صورت اختیار کر لیں تو نفس میں سے ایک صورت کا نام جنت ہونا ہے اور دوسری صورت کا نام جہنم۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page