اتحاد کی آسان تدبیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۱۷
تذکیر القرآن آل عمران ۳ جب تم صبح کو اپنے گھر سے نکلے اور مسلمانوں کو جنگ کے مقامات پر متعین کیا اور اللہ سننے والا، جاننے والا ۔ جب تم میں سے دو جماعتوں نے ارادہ کیا کہ ہمت ہار دیں اور اللہ ان دونوں جماعتوں کا مددگار تھا اور اللہ ہی پر چاہیے کہ مسلمان بھروسہ کریں۔ اور اللہ تمہاری مدد کر چکا ہے بدر میں جب تم کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار رہو۔ جب تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کیا تمہارے لئے کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے۔ اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو اور دشمن تمہارے اوپر یکدم آپہنچے تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان کئے ہوئے فرشتوں سے تمھاری مدد کرے گا۔ اور یہ اللہ نے اس لئے کیا تا کہ تمہارے لئے خوش خبری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو زبردست ہے، حکمت والا ہے، تاکہ اللہ کافروں کے ایک حصہ کو کاٹ دے یا ان کو ذلیل کر دے کہ وہ ناکام لوٹ جائیں۔ تم کو اس امر میں کوئی دخل نہیں۔ اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عذاب دے، کیوں کہ وہ ظالم ہیں۔ اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔
یہ آیتیں جنگ احد (۳ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لئے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہو گیا ۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوں میں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے ان مسلمانوں کے سینے کھول دئے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے ذہنی کمزوری پیدا ہو جائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑ نہیں دیتا بلکہ اس کا مددگار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ احد کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے۔ اب دشمن فوج کے لئے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر قوتی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رت کو "مدینہ" کے بجائے "مکہ" کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھیں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہئے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر تعداد کی کمی پوری کر دے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دار و مدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں: ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ دینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فرقِ مخالفت کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کر دیتا ہے، وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں اور اس طرح فرقِ مخالفت کی کمزوری اور اہل ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہل ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کر کے ان کو فرق مخالفت پر غالب کر دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues