اتحاد کی آسان تدبیر
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸
اے ایمان والو! سود کی کئی حصہ بڑھا کر نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تا کہ تم کیمیاب ہو۔ اور ڈرو اس آگ سے جو کےفروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ اور دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ وہ تیار کی گئی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے۔ جو لوگ کہ خرچ کرتے ہیں فراغت میں اور تنگی میں۔ وہ غصہ کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔ اور اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ اور ایسے لوگ کہ جب وہ کوئی کھلی برائی کر بیٹھیں یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر ڈالیں جو وہ اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرے اور وہ جانتے بوجھتے اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے۔ یہ لوگ ہیں کہ ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ کیسا اچھا بدلہ ہے کام کرنے والوں کا۔ تم سے پہلے بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔ یہ بیان ہے لوگوں کے لئے اور ہدایت و نصیحت ہے ڈرنے والوں کے لئے ۳۰-۱۳۸ سودی کاروبار زر پرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زر پرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اسی فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کا مال حاصل کرنے کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت و نصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لئے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیا میں اس کے لئے شان دار زندگی کی ضمانت ہو جائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت و کامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے تو اس جنت کی طرف دوڑے۔ جنت کی طرف دوڑ نا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو "بڑھانا" ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو "گھٹانا"،۔ پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کا محبت ہے تو دوسری لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع کا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کا نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔
جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر "احسان" کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لئے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آ جائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کر لیتے ہیں، کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کر دیتے ہیں غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ متقی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چوکنک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کر دے اور ان پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طور پر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues