Al-Risala · January 1980 · page 18

جواس کی انا کو توڑ دے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸

جواس کی انا کو توڑ دے

محمد حاجی کٹی حسن (تلچہری۔ کیرلا) ایک صوفی قسم کے آدمی ہیں۔ وہ سات زبانیں جانتے ہیں۔ "آپ سات زبانوں میں گفتگو کر سکتے ہیں اور مزید کچھ زبانوں کو سیکھ رہے ہیں“ ایک شخص نے ان سے کہا۔ حاجی کٹی حسن نے جواب دیا، "یہ صحیح ہے مگر میں جس زبان کو بولنا سب سے زیادہ پسند کرتا ہوں وہ صرف محبت کی زبان ہے ( سنڈے کلکتہ، کلکتہ،16 اپریل ۱۹۷۸)

محمد حاجی کٹی حسن کی ملاقات محمد علی با کسر سے ہوئی ۔ ۱۹۷۳ء کی ایک ملاقات میں، جب کہ دونوں سنگا پور میں تھے، محمد علی نے پوچھا : "جنت کہاں ہے“ صوفی حسن نے جواب دیا "وہ ہر جگہ ہے" محمد علی نے دوبارہ کہا: "ہماری دنیا تین ابعاد کی دنیا ہے۔ یہاں ہندوستان کی روحانی شخصیت کی طرف سے اس قسم کے جوابات نے محمد علی کے اندرونی تاروں کو چھیڑ دیا۔ شاید انھیں کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ان کی انا کو توڑ دے۔ صوفی حسن سے غالباً ان کو اسی قسم کی ایک ضرب ملی جس نے ان کو سکون سے ہم کنار کیا۔ بلاشبہ محمد علی نے محسوس کیا کہ وہ ایک مقدس انسان کو پا گئے ہیں۔

انسانی فطرت عین اپنی ساخت کے اعتبار سے چاہتی ہے کہ کسی "بڑے" کے آگے جھک جائے۔ انسان کی انسانیت حقیقتہً اسی فطرت کی آواز کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان جب تک اپنے بڑے وہ دکھائی نہیں دیتی۔ صوفی حسن نے کہا :

پھر آپ کی جنت چوتھے بعد میں ہے۔ ہلٹن ہوٹل کی ۳۰ ویں منزل پر دونوں میں اس قسم کی باتیں ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ تیسرے دن محمد علی نے اعلان کر دیا کہ "صوفی حسن میرے ریلیجس ایڈوائزر ہیں ۔ "

محمد علی دنیا بھر میں اپنی انانیت اور گھمنڈ کے لئے مشہور ہے۔ ایسا ایک خود پسند شخص صوفی حسن کا معتقد کس طرح ہو گیا اس کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک اخباری رپورٹر نے ایک ایسی بات لکھی ہے جو انسانی نفسیات کے مطالعہ میں مدد دیتی ہے۔ وہ لکھتا ہے :

کونہ پالے، وہ غیر مطمئن رہتا ہے۔ وہ کائنات میں اپنے کو بے جگہ محسوس کرتا ہے۔ انسان عین اپنی اندرونی آواز کے تحت خدا کا طالب ہے۔ وہ اس وقت تک مطمئن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے نہ ڈال دے۔ انسان کی "انا"، دراصل انسان کے پاس اس کے خالق کی قیمتی امانت ہے ۔ انسان جب تک اس امانت کو اس کے حقیقی مالک کی خدمت میں نذر نہ کر دے، وہ کسی طرح مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ خدا کو نہ پائے تو وہ کسی غیر خدا کو اپنا معبود بنا کر اپنے اس جذبہ کی تسکین حاصل کرے گا۔ چاہے وہ خود اس کی اپنی ذات ہو یا اپنی ذات سے باہر کی کوئی چیز ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page