Al-Risala · January 1980 · page 19

جواس کی انا کو توڑ دے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۹

کے معاملات میں ۔ اور وہ تم سے یتیموں کی بابت پوچھتے ہیں، کہہ دو کہ جس میں ان کی بہبود ہو وہ بہتر ہیں،۔ اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ شامل کر لو تو وہ تمھارے بھائی ہیں۔ اور اللہ کو معلوم ہے کہ کون خرابی پیدا کرنے والا ہے اور کون درستی پیدا کرنے والا ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو مشکل میں ڈال دیتا۔ اللہ زبردست ہے، تدبیر والا ہے۔ ۲۱۴ - ۲۱۵ چند سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہاں کچھ بنیادی اصول بتائے گئے ہیں (1) کسی چیز کا نقصان اگر اس کے نفع سے زیادہ ہو تو وہ قابلِ ترک ہے۔ (۲) اپنی واقعی ضرورت سے زیادہ جو مال ہو اس کو اللہ کی راہ میں دے دینا چاہیے ۔ (۳) باہمی معاملات میں ان طریقوں سے بچنا جو کسی بگاڑ کا سبب بن سکتے ہوں اور ان طریقوں کو اختیار کرنا جو اصلاح پیدا کرنے والے ہوں۔

شراب پی کر آدمی کو سرور حاصل ہوتا ہے، جوا کھیلنے والے کو کبھی محنت کے بغیر کافی دولت ہاتھ آ جاتی ہے۔ اس اعتبار سے ان چیزوں میں نفع کا پہلو ہے۔ مگر دوسرے اعتبار سے ان کے اندر دینی اور اخلاقی نقصانات ہیں اور یہ نقصانات ان کے نفع سے بہت زیادہ ہیں۔ اس لئے ان سے منع کر دیا گیا۔ کسی چیز کو لینے یا نہ لینے کا یہی معیار زندگی کے دوسرے امور کے لئے بھی ہے ۔ مثلاً وہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی سرگرمیاں، وہ تمام تقریبات اور جلسے قابلِ ترک ہیں جن کے بارے میں دینی اور اقتصادی جائزہ بتائے کہ ان میں نفع کم ہے اور نقصان زیادہ۔ مسلمان وہ ہے جو آخرت کو اپنی منزل بنائے ، جو اس تڑپ کے ساتھ اپنی صبح و شام کر رہا ہو کہ اس کا خدا اس سے راضی ہو جائے۔ ایسے شخص کے لئے دنیا کا ساز و سامان زندگی کی ضرورت ہے نہ کہ زندگی کا مقصد ۔ وہ مال حاصل کرتا ہے ، وہ دنیا کے کاموں میں مشغول ہوتا ہے، مگر یہ سب کچھ اس کے لئے حاجت اور ضرورت کے درجے میں ہوتا ہے نہ کہ مقصد کے درجہ میں ۔ اس کے اثاثہ کی جو چیز اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ ہو، اس کا بہترین مصرف اس کے نزدیک یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو اپنے رب کی راہ میں دے دے، تاکہ وہ اس سے راضی ہو اور اس کو اپنی رحمتوں کے سایہ میں جگہ دے۔ اس کی ہر چیز بقَدِر حاجت اپنے لئے ہوتی ہے اور حاجت سے جو زیادہ ہو وہ دین کے لئے۔ باہمی معاملات اور کاروبار کے اکثر مسائل اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ ان کے بارے میں صرف بنیادی ہدایات دی جاسکتی ہے ، ان کی تمام علی تفصیلات کو قانون کے الفاظ میں متعین نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں یہ اصول مقرر کر دیا گیا کہ اپنی نیت کو درست رکھو اور جو کارروائی کرو یہ سوچ کر کرو کہ وہ کسی بگاڑ کا سبب نہ بنے بلکہ صاحب معاملہ کو تم پر بھروسا ہو۔ اگر تم دوسرے کو اپنا بھائی سمجھتے ہو تو اس کے مصالح کی پوری رعایت رکھو، مگر اور

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page