Al-Risala · April 1980 · page 35

عقیدہ خدا

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۳۵

کبھی فرق نہیں آتا، وہ کبھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ یہ تمام معجزوں سے بڑا معجزہ اور تمام کرشموں سے بڑا کرشمہ ہے جو ہر لمحہ ہماری دنیا میں پیش کیا جارہا ہے۔ کیا اس کے بعد کوئی اور ثبوت چاہئے کہ آدمی اس کائنات کے پیچھے ایک عظیم خدائی طاقت کو تسلیم کرے۔ پھر زندگی کو دیکھئے۔ فطرت کا کیسا انوکھا واقعہ ہے کہ چند مادی چیزیں خود بخود ایک جسم میں یک جا ہوتی ہیں اور پھر ایک ایسی شخصیت وجود میں آجاتی ہے جو مچھلی بن کر پانی میں تیرتی ہے، جو چڑیا بن کر ہوا میں اڑتی ہے۔ طرح طرح کے جانوروں کی صورت میں زمین پر چلتی پھرتی ہے، انھیں میں وہ جان دار بھی ہے جس کو انسان کہا جاتا ہے، بڑا اسرار اسباب کے تحت ایک موزوں جسم بنتا ہے اور اس کے اندر ہڈیاں ایک انتہائی با معنی ڈھانچے کی صورت اختیار کر لیتی ہیں، پھر اس کے اوپر گوشت چڑھایا جاتا ہے۔ اس کے اوپر کھال کی تہیں اوڑھائی جاتی ہیں، بال اور ناخن پیدا کئے جاتے ہیں۔ پھر سارے جسم میں خون کی نہریں جاری کی جاتی ہیں۔ اس طرح ایک خود کار عمل کے ذریعہ ایک عجیب و غریب انسان بنتا ہے، جو چلتا ہے، جو پکڑتا ہے، جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو سونگھتا ہے، جو چکھتا ہے، جو سوچتا ہے، جو یاد رکھتا ہے، جو معلومات جمع کر کے ان کو مرتب کرتا ہے، جو لکھتا اور بولتا ہے ۔ مردہ مادہ سے اس قسم کے ایک حیرت ناک وجود کا بن جانا ایک ایسا انوکھا واقعہ ہے کہ معجزہ کا لفظ بھی اس کے اعجاز کو بتانے کے لئے کافی نہیں۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میں نے مٹی کو بولتے ہوئے سنا اور پتھر کو چلتے ہوئے دیکھا تو لوگ حیران ہو کر اس کی تفصیل دریافت کریں گے۔ مگر یہ انسان جو چلتا پھرتا ہے جو بولتا اور دیکھتا ہے آخر مٹی پتھر ہی تو ہے۔ اس کے اجزا رہی ہیں جو مٹی اور پتھر" کے ہوتے ہیں۔ مٹی اور پتھر کے بولنے اور دیکھنے کی خبر کو ہم جس طرح عجیب سمجھیں گے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ تعجب ہم کو اس مخلوق پر ہونا چاہئے جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ بے جان مادہ میں اس قسم کی زندگی اور شعور پیدا ہو جانا کیا اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہاں ایک برتر ہستی ہے جس نے اپنی خصوصی قدرت سے یہ عجیب و غریب معجزہ رونما کیا ہے۔

انسان اگر اپنے اوپر غور کرے تو بہ آسانی رہ خدائی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی صورت میں ایک "میں" زمین پر موجود ہے۔ اس کی اپنی ایک مستقل ہستی ہے۔ وہ دوسری چیزوں سے الگ اپنا ایک وجود رکھتا ہے۔ یہ "میں" بلا اشتباہ یقین رکھتا ہے کہ وہ ہے۔ وہ سوچتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ وہ ارادہ کرتا ہے اور اس کو بالفعل نافذ کرتا ہے۔ وہ اپنے فیصلے کے تحت کہیں ایک رویہ اور کہیں دوسرا رویہ اختیار کرتا ہے۔ یہی شخصیت اور قوت جس کا ایک آدمی اپنی "میں" کی سطح پر ہر وقت تجربہ کر رہا ہے یہی "میں" اگر خدا کی صورت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر موجود ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ آدمی اپنے واسطے آپ دلیل ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرت کرے (قیامہ)

لوگ خدا پر اور خدا کے پیغام پر یقین کرنے کے لئے معجزاتی دلیل مانگتے ہیں۔ آخر لوگوں کو اس کے سوا اور کون سا معجزہ درکار ہے جو ناقابل قیاس حد تک بڑے پیمانے پر ساری کائنات میں جاری ہے۔ اگر اتنا بڑا معجزہ آدمی کو جھکانے کے لئے کافی نہ ہو تو دوسرا دلی معجزہ دیکھ کر وہ کیسے ماننے کے لئے تیار ہو جائیں گے، حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننے اور اس کے آگے اپنے آپ کو ڈالنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہر وقت ہر آدمی کے سامنے موجود ہے۔ اس کے باوجود آدمی اگر خدا کو اور اس کے جلال و کمال کو نہ مانے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے نہ کہ کائنات کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page