Al-Risala · April 1980 · page 34

عقیدہ خدا

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۳۴

ناکافی ہیں۔ ہمارے الفاظ ان معجزوں کے اتھاہ کمالات کو صرف محدود کرتے ہیں۔ وہ کچھ بھی ان کا اظہار نہیں کرتے۔ کیا یہ معجزہ ایک خدا کے بغیر خود بخود وجود میں آ سکتا ہے۔

دنیا کی ہر چیز ایٹم سے بنی ہے۔ ہر چیز اپنے آخری تجزیہ میں ایٹموں کا مجموعہ ہے۔ مگر کیا عجیب معجزہ ہے کہ کہیں ایٹموں کی ایک مقدار جمع ہوتی ہے تو سورج جیسا روشن کرہ بن جاتا ہے۔ دوسری جگہ یہی ایٹم جمع ہوتے ہیں تو وہ بہتے ہوئے پانی کی صورت میں رواں ہو جاتے ہیں، تیسری جگہ ایٹموں کا یہی مجموعہ لطیف ہواؤں کی صورت اختیار کر لیتا ہے کسی اور جگہ یہی ایٹم زرخیز زمین کی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں ان گنت چیزیں ہیں۔ سب کی ترکیب ایٹم سے ہوئی ہے۔ مگر سب کی نوعیت اور خاصیت جدا جدا ہے۔ اس قسم کی ایک معجزاتی کائنات اپنی بے شمار سرگرمیوں کے ساتھ انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ انسان کو اپنی زندگی کے لئے جو کچھ درکار ہے وہ بہت بڑے پیمانے پر دنیا میں جمع کر دیا گیا ہے اور ہر روز خرچ کیا جا رہا ہے۔ دنیا کو اپنے لئے قابل استعمال بنانے کی خاطر انسان کو خود جو کچھ کرنا ہے وہ بہت تھوڑا ہے۔ کائناتی انتظام کے تحت بے حساب مقدار میں قیمتی رزق پیدا کیا جاتا ہے۔ ہم اس میں صرف اتنا کرتے ہیں کہ اپنا ہاتھ اور منہ چلا کر اس کو اپنے پیٹ میں ڈال لیتے ہیں ۔ اس کے بعد ہمارے ارادہ کے بغیر خود کار قطری نظام کے تحت غذا ہمارے اندر تحلیل ہوتی ہے اور گوشت اور خون اور ہڈی اور ناخن اور بال اور دوسری بہت سی چیزوں کی صورت اختیار کر کے ہمارے جسم کا جز بن جاتی ہے۔ زمین و آسمان کی بے شمار گردشوں کے بعد وہ حیرت انگیز چیز پیدا ہوتی ہے جس کو تیل کہتے ہیں۔ انسان صرف یہ کرتا ہے کہ اس کو نکال کر اپنی مشینوں میں بھر لیتا ہے اور پھر یہ سیال ایندھن انسانی تہذیب کے پورے نظام کو حیرت انگیز طور پر رواں دواں کر دیتا ہے۔ اسی طرح کائنات کے نظام کے تحت وہ ساری چیزیں بے شمار تعداد اور مقدار میں پیدا کی گئی ہیں جن پر انسان صرف معمولی عمل کرتا ہے اور اس کے بعد وہ کپڑا، مکان، فرنیچر، آلات، مشینوں، سواریوں اور بے شمار تمدنی ساز و سامان کی صورت میں ڈھل جاتی ہیں۔ کیا یہ واقعات اس بات کے ثبوت کے لئے کافی نہیں کہ اس کا ایک بنانے والا اور چلانے والا ہے۔

اب ایک اور پہلو سے دیکھئے ۔ قدرت اپنے طویل اور ناقابل بیان عمل کے ذریعہ ہر قسم کی چیزیں تیار کر کے ہم کو دے رہی ہے۔ انسان ان کو اپنے حق میں کار آمد بنانے کے لئے بے حد تھوڑا حصہ ادا کرتا ہے۔ وہ لوہے کو مشین کی صورت میں ڈھالتا ہے اور تیل کو صاف کر کے اس کو اپنی گاڑی کی ٹنکی میں بھرتا ہے۔ مگر اس قسم کے معمولی عمل کا یہ نتیجہ ہے کہ خشکی اور تری فساد سے بھر گئے ہیں۔ قدرت نے ہم کو ایک انتہائی حسین اور خالص دنیا دی تھی مگر ہمارے عمل نے ہم کو دھواں، شور، غلاظت، توڑ پھوڑ، لڑائی جھگڑا اور طرح طرح کے ناقابل حل مسائل سے گھیر لیا ہے۔ ہم اپنے کارخانوں یا تمدنی سرگرمیوں کی صورت میں جو تھوڑا سا عمل کرتے ہیں وہی عمل کائنات میں بے حساب گنا زیادہ بڑے پیمانے پر رات دن ہو رہا ہے مگر یہاں کسی قسم کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ زمین مسلسل دو قسم کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے ایک اپنے محور پر اور دوسری سورج کے گرد اپنے مدار پر، مگر وہ کوئی شور برپا نہیں کرتی۔ درخت ایک عظیم الشان کارخانہ کی صورت میں کام کرتے ہیں مگر وہ دھواں نہیں بکھیرتے، سمندروں میں بے شمار جانور ہر روز مرتے ہیں مگر وہ پانی کو خراب نہیں کرتے۔ کائنات کا نظام کھرب ہا کھرب سال سے چل رہا ہے مگر اس کا منصوبہ اتنا کامل ہے کہ اس کو کبھی اپنے منصوبہ پر نظرثانی کی ضرورت نہیں آتی۔ بے شمار ستارے اور سیارے خلا میں ہر وقت دوڑ رہے ہیں۔ مگر ان کی رفتار میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page