Al-Risala · April 1980 · page 37

حج کی حقیقت

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۳۷

الحج اشهر معلومات - فمن فرض فيهن الحج فلا رففت حج کے مہینے معلوم ہیں۔ جو شخص ان میں حج کا اپنے اوپر مقر ر کرے ولا فسوق ولا جدال فى الحج - وما تفعلوا من خير تو حج میں وہ فحاشی ہے ، نہ بے حکمی اور نہ جھگڑا۔ اور تم جو بھلائی يعلمه الله - وتزودوا فان خير الزاد التقوىٰ کرو گے ، اللہ اس کو جان لے گا۔ اور زادِ راہ لے لیا کرو ، سب سے و اتقون يا اولى الالباب (بقره ۱۷۷) بہتر زاد راہ تقویٰ ہے۔ اے عقل والو مجھ سے ڈرو۔

رَفَت کے معنی ہیں فحش کلامی کرنا۔ فسق کا لفظ تقریباً اسی مفہوم میں آتا ہے جس کے لئے اردو میں کہتے ہیں: "اس نے انسانیت کا جامہ آتار پھینکا"، جدال کے معنی ہیں ایک دوسرے سے جھگڑا کرنا۔ یہ تینوں الفاظ اس برائی کے لئے استعمال ہوتے ہیں جو عام طور پر زبان سے سرزد ہوتی ہے۔ جب مختلف لوگ اکٹھا ہوتے ہیں تو کوئی ہوس پرست آدمی فحش باتیں کر کے سنجیدہ ماحول کو بگاڑ دیتا ہے۔ بھی کوئی عام عادت کے خلاف بات پیش آتی ہے اور آدمی اپنا ظاہری لبادہ اتار کر ناحق باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے کبھی کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے اور آدمی برداشت نہ کرتے ہوئے اس سے جھگڑنے لگتا ہے۔ حج کا اجتماع اسی قسم کی تمام برائیوں سے بچنے کی ایک تربیت ہے۔ ایک ایسا مقام جس سے تقدس اور احترام کی یادیں وابستہ ہیں، وہاں لے جا کر آدمی کو خصوصی طور پر اس کا مشق کرائی جاتی ہے کہ وہ اجتماعی ماحول میں رہتے ہوئے ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے ۔ وہ اپنے آپ کو فواحش اور ڈلی دلچسپیوں سے ہٹا کر سنجیدہ چیزوں کی طرف راغب کرے۔ اس کے اندر ہر حال میں حق و صلاح پر قائم رہنے کا مزاج پیدا ہو۔ اجتماعی زندگی میں ناخوش گوار تجربات پیش آنے یا دل کو ٹھیس لگنے کے باوجود اپنے بھائی سے لڑنے نہ کھڑا ہو جائے ۔

جب کبھی چند آدمی کہیں جمع ہوتے ہیں یا مل کر رہتے ہیں تو ایک کو دوسرے سے کوئی نہ کوئی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی صورت حال حج میں بہت بڑے پیمانہ پر پیش آتی ہے۔ کیوں کہ حج کے موقع پر مختلف قسم کے لوگ بہت بڑی تعداد میں ایک مقام پر اکٹھا ہو جاتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حج کے دوران بار بار ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اب اگر لوگ ذاتی شکایتوں کی بنا پر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں تو عبادت کی فضا ختم ہو جائے اور حج کا مقصد حاصل نہ ہو سکے۔ اس لئے حج کے زمانہ میں جھگڑنے اور غصہ کرنے کو مطلق حرام قرار دے دیا گیا۔ اس طرح حج کو ایک بہت بڑی چیز کے لئے تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ کیوں کہ لڑائی جھگڑا جس طرح حج کو باطل کر دیتا ہے اسی طرح نہ ایک مسلمان کی عام زندگی کو بھی اسلام سے دور کر دیتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی ظاہری چیز کو تقویٰ کی علامت سمجھ لیتا ہے اور اس کو اختیار کر کے سمجھتا ہے کہ اس نے متقیانہ زندگی حاصل کر لی۔ حالاں کہ اصل حقیقت کے اعتبار سے اس کا دل تقویٰ سے بالکل خالی ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ حج کے سفر میں زادِ راہ نہ رکھنا تقویٰ کی علامت ہے۔ وہ اس کا خوب اہتمام کرنے لگے۔ مگر زاد راہ کا تعلق ضرورت سے ہے نہ کہ تقویٰ سے۔ اس قسم کی چیز دل میں آدمی کو اپنی ضرورت کے اعتبار سے تیاری کرنا چاہئے۔ مگر تقویٰ اس سے بالکل الگ چیز ہے۔ اس کا تعلق دل سے ہے۔ اللہ کے یہاں کوئی شخص محض اس لئے مقبول نہیں ہو جاتا کہ اس نے خواہ مخواہ زاد راہ کے بغیر سفر کیا اور اپنے جسم کو غیر ضروری مشقت میں ڈالا۔ اللہ کو دل کا تقویٰ مطلوب ہے۔ حج کے سفر کو تقویٰ کا زاد راہ فراہم کرنے کا ذریعہ ہونا چاہئے ، کیونکہ یہی وہ زادِ راہ ہے جو آخرت کے سفر میں آدمی کے کام آئے گا۔ حج کے مسافر اور اسی طرح زندگی کے مسافر کے لئے بہترین عقلمندی یہ ہے کہ وہ شہوانی باتوں سے بچے ، وہ اللہ کی ناپسندیدہ حرکتوں اور لڑائی جھگڑے کی چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page