عقل کی آنکھ سے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۳۸
عقل کی آنکھ سے
خطیب بغدادی نے اپنی کتاب تاریخ بغداد میں قاضی ابو یوسف کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے، علی بن جد کہتے ہیں کہ امام ابو یوسف نے مجھ کو بتایا۔ میرے باپ ابراہیم بن جب کا انتقال ہو گیا، میری ماں نے مجھے ایک دھوبی کے یہاں خدمت کے لئے رکھ دیا۔ میں اکثر دھوبی کو چھوڑ کر امام ابو حنیفہ کے حلقہ درس میں چلا جاتا اور وہاں حدیث اور فقہ کا علم حاصل کرتا۔ میری ماں کو معلوم ہوتا تو وہ آتی اور میرا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ دھوبی کے یہاں پہنچا دیتی۔ جب ایسا قصہ بار بار ہونے لگا تو میری ماں پر شاق گزرا اس نے امام ابو حنیفہ سے کہا: اس لڑکے کا نگار صرف تم ہو۔ یہ ایک یتیم لڑکا ہے۔ اس کے پاس کچھ نہیں۔ میں چرخہ کا تکراس کو کھلاتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ وہ بھی کچھ کمانے لگے۔ امام ابو حنیفہ نے میری ماں سے کہا: وہ پستہ کا فالودہ کھانے والا علم حاصل کر رہا ہے۔ میری ماں یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے تمھاری عقل جاتی رہی ہے۔ امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے میری مالی مدد کی اور میں ان کے حلقہ درس سے برابر علم حاصل کرتا رہا۔ یہاں تک کہ میں اس قابل ہو گیا کہ عباسی حکومت نے مجھ کو قاضی کے عہدہ پر مقرر کیا۔ اب میں خلیفہ ہارون رشید کی مجلس میں بیٹھنے لگا۔ میں اس کے دستر خوان پر کھانا کھاتا۔ ایک روز دستر خوان پر ہارون رشید کے لئے فالودہ آیا۔ ہارون رشید نے کہا اس کو کھاؤ۔ میں نے پوچھا: اے امیر المومنین یہ کیا چیز ہے۔ ہارون رشید نے کہا: یہ پستہ کا فالودہ ہے۔ یہ سن کر مجھ کو ہنسی آگئی۔ ہارون رشید نے پوچھا کہ تم کیوں ہنسے۔ پھر میں نے مذکورہ قصہ شروع سے آخر تک بتایا۔ ہارون رشید یہ سن کر پشیمنے میں پڑ گیا۔ اس نے کہا: میری زندگی کی قسم، علم آدمی کو بلند کرتا ہے اور دین اور دنیا میں اس کو نفع دیتا ہے۔ اللہ ابو حنیفہ پر رحم کرے، وہ اپنی عقل کی آنکھ سے وہ چیز دیکھ لیتے جس کو وہ اپنے سر کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے تھے (کان ينظر بعين عقله، مالايراه بعين رأسه) ، انسان کے چہرہ پر اللہ نے دو خوبصورت آنکھیں دی ہیں جن سے وہ تمام چیزوں کو دیکھتا ہے۔ مگر ان آنکھوں سے جو کچھ نظر آتا ہے وہ صرف ظاہری چیزیں ہیں۔ زیادہ گہری اور زیادہ با معنی چیزیں دیکھنے کے لئے ایک اور آنکھ کی ضرورت ہے۔ یہ بصیرت یا عقل کی آنکھ ہے۔ جو شخص صرف سر کی آنکھ رکھتا ہو اس کا دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مشین کے اوپر کا ڈھکن دیکھے مگر اندر کے کل پرزوں سے بے خبر رہے، ایسا دیکھنا، نہ دیکھنے سے بس برائے نام ہی مختلف ہے۔ بڑھیا کی ظاہری آنکھ نوجوان کا مستقبل صرف دھوبی کے خدمت گار کی صورت میں دیکھتی تھی مگر اسی نوجوان کو حبیب ایک عقل کی آنکھ والے نے دیکھا تو وہ اس کو بادشاہ کے دستر خوان پر بیٹھا ہوا نظر آیا۔
عقل کی آنکھ آدمی کو کس طرح حاصل ہوتی ہے، اس کا ایک ہی جواب ہے۔ یہ صلاحیت آدمی کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ وہ سر کی آنکھ سے نظر آنے والی چیزوں سے اوپر اٹھ جائے، معنوی حقیقتیں ظاہری حقیقتوں سے پرے ہیں۔ اس لئے معنوی حقیقتوں کو وہی شخص پاتا ہے جو ظاہری حقیقتوں سے گزر جائے ۔ سامنے کی چیزوں سے نظر ہٹانے کے بعد ہی دور کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ اسی طرح گہری باتوں کو آدمی اس وقت پاتا ہے جب کہ وہ اوپری باتوں سے بلند ہو جائے ۔ چیزوں کے ظاہری روپ میں گم رہنے والا کبھی چیزوں کو ان کے اندرونی روپ میں نہیں دیکھ سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues