Al-Risala · April 1980 · page 40

جب موت ہر چیز کو باطل کر دے گی

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۴۰

جب موت ہر چیز کو باطل کر دے گی

وہ وقت کیسا عجیب ہو گا جب جب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ عمل کا نام پر دنیا میں وہ جو کچھ کرتے رہے وہ بےعملی کی بدترین شکل تھی لوگ دنیا میں اپنے کو اوپر اٹھا کر فخر کرتے رہے حالاں کہ ان کے لئے قابلِ فخربات یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے آگے جھکا دیں۔ وہ اپنی غلطیوں کی توجیہہ وتأویل کو کامیابی سمجھتے رہے حالاں کہ ان کی کامیابی یہ تھی کہ وہ اپنی غلطیوں کے کھلے دل سے اعتراف کر لیں۔ ان کو الفاظ اسی لئے دئے گئے تھے کہ ان کو اللہ کی تعریف میں استعمال کریں۔ مگر وہ اپنے الفاظ کے ذخیرہ کو انسان کی تعریف میں خرچ کرتے رہے۔ ان کے اندر خوف ومحبت کے نازک جذبات اس لئے رکھے گئے تھے کہ وہ ان کو خدا کے لئے وقف کر دیں۔ مگر وہ دوسری چیزوں کو اپنے خوف ومحبت کے جذبات کا مرکز بناتے رہے۔ انھوں نے مال جمع کرنے کو سب سے بڑی چیز سمجھا حالاں کہ ان کے لئے سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ وہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے کر بے مال ہو جائیں۔ ان کا اصلی کمال یہ تھا کہ وہ کمزوروں کا لحاظ کریں مگر وہ کمزور دلوں کو نظر انداز کر کے طاقت وروں کا استقبال کرتے رہے۔ ان کے لئے زیادہ بہتر یہ تھا کہ خاموش سمندر میں غوطہ لگائیں مگر وہ شور وغل کے ہنگامہ کھڑے کرنے میں مشغول رہے۔ ان کی ترقی کا راز یہ تھا کہ وہ اپنی ذات کا احتساب کرنے دائیں مگر وہ دوسروں کا احتساب کرنے میں مصروف رہے۔ ان سے یہ مطلوب تھا کہ دنیا کا مال یا دنیا کی عزت پائیں تو اس کو بے حقیقت سمجھیں اور اس سے بے رغبتی کا ثبوت دیں مگر اس کو وہ سب سے بڑی چیز سمجھ بیٹھے۔

آج کی دنیا میں لوگ دوسروں کے ظلم کا اعلان کرنے کے بہادر بنے ہوئے ہیں ، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ اصل بہادری یہ تھی کہ وہ خود اپنے ظلم کو جاننے کے بہادر بنیں۔ لوگ کسی نہ کسی غیر خدا کا دامن تھام کر سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے اپنے لئے مضبوط پناہ حاصل کر لی ، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ خدا کے سوا کوئی نہ تھا جو کسی کے لئے پناہ بن سکے۔ لوگ الفاظ بول کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھ رہے ہیں۔ اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ یہ صرف حقائق تھے جو کسی کو بری الذمہ کر سکتے تھے۔ لوگ دنیا کے اسباب کو اکھٹا کر کے مطمئن ہیں کہ جو کچھ ان کو پانا تھا وہ انھوں نے پالیا، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب موت ان کی ہر چیز کو باطل کر دے گی اور ان کو معلوم ہوگا کہ انھوں نے کچھ بھی نہیں پایا تھا۔ لوگ دوسروں کی غلطیوں کی فہرست مرتب کر رہے ہیں، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب فرشتے خود ان کی غلطیوں کی فہرست ان کے سامنے پیش کریں گے۔ لوگ زندگی کو اصل مسکہ سمجھے ہوئے ہیں۔ اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ ان کا اصل مسئلہ موت تھا نہ کہ دنیا کی چند روزہ زندگی۔ لوگ اپنے خود ساختہ معیار کے مطابق پا کر اپنے کو برحق سمجھ رہے ہیں، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ حق پر صرف وہ تھا جو اللہ کے مقرر کئے ہوئے معیار کے مطابق تھا۔ لوگ استقبال کرنے والوں کی بھیڑ پاکر اپنے کو خوش قسمت سمجھ رہے ہیں، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا ان کو معلوم ہوگا کہ خوش قسمت صرف وہ تھا جس کے استقبال کے لئے اللہ اور اس کے فرشتے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ ـــــــــ ہر آدمی نے اپنی خوش خیالیوں کی ایک دنیا بنا رکھی ہے اور اپنے آپ کو اس کے اندر پاکر مطمئن ہے۔ مگر قیامت ایسے تمام گھر وندوںکو توڑ دے گی، اس وقت صرف وہ شخص محفوظ ہوگا جو خدا کے گھر میں پناہ پکڑے ہوئے تھا جس نے اپنے لئے خدا کا سایہ حاصل کر لیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues

Printed page