جب موت ہر چیز کو باطل کر دے گی
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۴۱
نماز کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ وقت وقت پر مقرر کی گئی ہے۔ یہ دنیا میں بار بار اوقات بدلتے ہیں اور اسی کے لحاظ سے آدمی اپنے کاموں کا نظام بناتا ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی وقت کی تبدیلی کے ساتھ اپنے خالق اور مالک کے آگے جھک کر اس بات کا اقرار کرے کہ وہ یہاں سرکش بن کر وہیں رہے گا بلکہ جھکی ہوئی زندگی گزارے گا۔ صبح کو آدمی جب سو کر اٹھتا ہے اور رات کو جب سونے کے لئے بستر پر جاتا ہے، اسی طرح سورج جب ڈھلتا ہے اور جب وہ غروب ہوتا ہے۔ ان تمام لمحات کو پانچ وقتوں میں بانٹ دیا گیا ہے اور حکم ہے کہ اس کے مطابق رات دن میں پانچ بار، اپنے رب کے سامنے مخصوص آداب کے ساتھ حاضری دو۔ یہ نماز عمر بھر کے لئے فرض ہے۔ آدمی پر جب موت آئے تو اس حال میں آئے کہ وہ اپنے رب کے آگے اپنے آپ کو ڈالے ہوئے ہو۔ نماز کے لئے وضو کی شرط اس بات کا سبق ہے کہ آدمی کو اس طرح رہنا چاہئے کہ اس کی زندگی خدا کی نافرمانیوں سے پاک ہو، اس نے اپنے گناہوں کو تو بہ کے آنسوؤں سے دھو ڈالا ہو۔ مسجد میں نماز ادا نہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنے دنیوی مشاغل سے الگ ہو کر کچھ دیر کے لئے اپنے کو اللہ کی طرف یکسو کرے۔ وہ اپنے ماحول کو چھوڑ کر خدا کی دنیا میں داخل ہو جائے، نماز میں ایک ہی قبلہ کی طرف تمام لوگوں کا رخ کرنا اور ایک امام کے تحت مل کر نماز ادا کرنا اتحاد کی تربیت ہے۔ نماز مسلمانوں کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنا ایک سربراہ بنائیں اور اس کی ماتحتی میں متحد اور منظم ہو کر زندگی گزاریں۔
نماز اللہ کی یاد ہے۔ اللہ کی یاد اپنے محسن اور آقا کی یاد ہے جو خوف اور محبت کے جذبات کے ساتھ برابر جاری رہتی ہے۔ آدمی پر جب یہ یاد طاری ہوتی ہے تو وہ رکوع اور سجدہ کی صورت میں اللہ کے سامنے گر پڑتا ہے۔ وہ سراپا عجز بن کر اس کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ ہمہ تن بستی کی تصویر بن جاتا ہے۔ جب آدمی اس طرح نماز ادا کرتا ہے تو نماز اس کے اوپر ایک قسم کی چوکی دار بن جاتی ہے۔ جب اس کا نفس برائی یا سرکشی کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس کو فوراً خیال آ جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے میں نے اطاعت کا جو اقرار کیا ہے یہ رویہ اس کے خلاف ہے۔ نماز اس کو ہر برے کام سے روکنے والی بن جاتی ہے۔
جب آدمی کے دل میں اللہ کا ڈر سما جاتا ہے اور اس کو اللہ کی رحمت ومغفرت کا شوق لگ جاتا ہے تو اس کی نماز کوئی رکھی چیز نہیں رہتی بلکہ روح اور کیفیت سے بھری ہوئی ایک چیز بن جاتی ہے۔ نماز کے ذریعہ جب وہ روزانہ خدا کی یاد کے سمندر میں نہاتا ہے تو نماز کی روح اس کے وجود پر چھا جاتی ہے۔ اس کا چہرہ اللہ کے آگے جھکنے والے کا چہرہ بن جاتا ہے۔ نماز اس کی پہچان بن جاتی ہے۔ نماز اس کے چہرہ پر سنجیدگی، خاموشی، احتیاط، محبت خدا اور فکر آخرت کا رنگ پھیر دیتی ہے۔ اس کو دیکھتے ہی آدمی کہہ اٹھتا ہے کہ یہ ایک نمازی کا چہرہ ہے، یہ اللہ کے رنگ میں رنگ جانے والا انسان ہے۔
نماز میں جب یہ خصوصیات پیدا ہو جائیں تو وہ ایک زندہ اور پر کیف چیز بن جاتی ہے۔ وہ اللہ سے نزدیکی کے ہم معنی ہوتی ہے نماز میں مشغول ہو کر وہ اپنے رب کی قربت کا تجربہ کرتا ہے۔ وہ اس سے عرضداشت کرتا ہے۔ اپنے کو نماز کی حالت میں لے جا کر اللہ سے مدد طلب کرتا ہے۔ نماز اس کی زندگی کا لازمی حصہ بن جاتی ہے۔ نماز اس کے لئے سادہ معنوں میں صرف نماز نہیں بلکہ مالک کائنات سے ملاقات کے ہم معنی ہوتی ہے۔ نماز اس کے لئے ایسی محبوب چیز بن جاتی ہے جس کی وہ حفاظت کرے جس کو وہ اپنی تنہائیوں کا ساتھی بنالے ــــــــ نماز اگر زندگی سے الگ ہو تو وہ محض ایک بے روح رسم ہے۔ نماز اگر زندگی کے ساتھ شامل ہو تو وہ ایک غذا ہے جس پر آدمی جیتا ہے، وہ ایک روشنی ہے جس کی رہنمائی میں آدمی اپنا سفر حیات طے کرتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues