اعتراف کی اہمیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳
اعتراف کی اہمیت
باکسنگ کے چیمپین محمد علی اپنے کو "سب سے بڑا" کہتے رہے ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ۲۵ جنوری ۱۹۸۰ کو نئی دہلی کی پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے کو سب سے بڑا کیوں کہتے ہیں۔ محمد علی نے نرم متواضع لہجہ میں جواب دیا: میں سب سے بڑا نہیں، سب سے بڑا تو صرف خدا ہے (Only God is the greatest) انھوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی بات میں صرف پبلسٹی مہم کے ذیل میں کہتا رہا ہوں تاکہ مقابلہ کے وقت میرا کھیل دیکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ آدمی جمع ہوں۔ سفید فام امریکہ میں ایک کالا آدمی اس قسم کا بھڑکانے والا بیان (Provocatvie Statement) دے تو وہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف مائل کرنے میں بہت کامیاب ہوتا ہے (ٹائمس آف انڈیا ۲۶ جنوری ۱۹۸۰)
آدمی اکثر ایسا کرتا ہے کہ وقتی مصلحت کی خاطر وہ کسی بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔ تاہم ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ آدمی اپنی اس نفسیات سے باخبر ہو۔ اور اس سے بھی کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بعد کو اس کا اعتراف کرے۔ محمد علی اگر اس بات کا اعلان نہ کرتے تو ہو سکتا ہے کہ ان کے معتقدین بعد کو یہ سمجھنے لگتے کہ محمد علی فی الواقع کوئی فوق البشر تھے یا ان کے اندر خدا حلول کر آیا تھا۔ مگر اپنی زبان سے کھلا ہوا اعلان کر کے انھوں نے ہمیشہ کے لیے اپنے معتقدین کو اس فتنہ سے بچالیا۔ اسی سے ملتی جلتی صورت موجودہ زمانہ میں مسلم قائدین کے یہاں بھی پیش آئی ہے۔ مگر ہمارے قائدین میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے اس صاف گوئی کی مثال پیش کی ہو۔
مثلاً موجودہ زمانہ میں کچھ لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے اسلام کو سیاسی نظام کی حیثیت سے پیش کیا اور انھوں نے کہا کہ دین کے معنی وہی ہیں جو اسٹیٹ کے ہیں اور خدا کے پیغمبر جو دنیا میں آئے اسی لئے آئے کہ خدائی قانون کی بنیاد پر ایک مکمل اسٹیٹ قائم کر دیں، یہ بات ایسی ہے جس کے لئے قرآن و سنت میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ تاہم ایک خاص وقت میں مسلمانوں کو ابھارنے کے لئے وہ بہت کارآمد ثابت ہوئی۔ اس سے ان کے اندر انقلاب کا مزاج پیدا ہوا اور وہ مدافعانہ نقطہ نظر سے سوچنے کے بجائے اقدامی نقطہ نظر سے سوچنے لگے۔ جو لوگ اس فکر سے متاثر ہوئے، اگر چہ سیاسی ذوق کے تحت اسلام کی طرف مائل ہوئے تاہم کچھ اندرونی فطرت کا زہر اور کچھ اسلامی روایات کے اثر سے ان میں اسلام کے دوسرے اوصاف بھی کسی نہ کسی درجہ میں پیدا ہو گئے۔ مگر اسلام کی تشریح مطلق طور پر درست نہ تھی۔ محفوظ ترین بات جو اس کے بارے میں کہی جا سکتی ہے وہ کہ یہ وقتی حالات کے تحت اسلام کے بعض پہلوؤں کو شدت کے ساتھ بیان کرنا تھا۔ اس نظریہ کو پیش کرنے والے لوگ اگر بعد کو اس طرح کا اعلان کر دیتے تو اس سے کوئی خاص خرابی پیدا نہ ہوتی۔ مگر انھوں نے اس قسم کا اعلان نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان کے معتقدین نہ صرف یہ کہ اس کو مطلق تشریح دین سمجھ بیٹھے بلکہ اس کے بعد دوسری دوسری خرابیاں ان میں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ مثلاً اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ان سیاسی طریقوں کو جائز سمجھ لیناجن کی کوئی گنجائش اسلام میں نہیں ہے۔ جب اسلام کا تصور ایک سیاسی نظام کا تصور ہو تو اس کو بروئے کار لانے کے لئے سیاسی طریقے اختیار کرنا کیوں نا جائز قرار پائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues