جب موت ہر چیز کو باطل کر دے گی
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۰، صفحہ ۴۲
لوگ لاؤڈ اسپیکر پر الفاظ کا طوفان برپا کر کے وعظ واصلاح کا کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ حالاں کہ وعظ و اصلاح کا کارنامہ انجام دینے والے وہ ہیں جن کے درد اور تڑپ نے ان سے ان کے الفاظ چھین لئے ہوں۔ لوگ ’’شہرت چوک " پر مظاہرہ کرکے ملت کا درد مند ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ حالاں کہ ملت کی درد مندی ظاہر ہونے کے مقامات وہ ہیں جہاں وہ شہرت ہوتی ہے اور نہ چوک۔
لوگ اشعار اور تخیلات کی دنیا میں آسمان و زمین کو زیر و زبر کرنے میں مصروف ہیں۔ حالاں کہ یہاں کوئی نتیجہ صرف اس کے حصہ میں آتا ہے جو عمل اور حقیقت کی دنیا میں اپنی اہلیت کا ثبوت دے۔
لوگ شور و غل مچا کر اسلام کی حسین دنیا بنانا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ شور و غل سے صرف غرا بستان اور عمارتستان وجود میں آتے ہیں نہ کہ اسلامستان۔
لوگ خوش فہمی کی کھڑکیوں سے جنت کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ جنت کسی کو حقیقی عمل سے ملتی ہے نہ کہ خوش فہمیوں اور خوش عقیدگیوں سے ۔
لوگ منقش چھتوں کے نیچے قنوت نازلہ پڑھ کر خدا کی نصرت کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ خدا کی نصرت ان لوگوں کی طرف آتی ہے جنھوں نے خدا کی راہ میں اپنے آپ کو چھتوں اور دیواروں سے محروم کر لیا ہو۔ لوگ عزت اور مفاد کے مواقع پر کمالات دکھا کر اپنے اسلام کا ثبوت دے رہے ہیں۔ حالاں کہ اللہ کو جہاں لوگوں کے اسلام کا ثبوت درکار ہے وہ مواقع نہ ہیں جہاں سب کچھ کر کے بھی کوئی عزت اور ترقی حاصل نہیں ہوتی۔ لوگ کچھ الفاظ پا کر مطمئن ہیں کہ انھوں نے خدا کے سامنے اپنی برأت کا سامان کر لیا ہے۔ حالاں کہ خدا کے یہاں جو چیز کسی کے کام آئے گی وہ حقائق ہیں نہ کہ الفاظ۔
لوگ اپنے پڑوسی اور اپنے صاحب معاملہ افراد کو ستاتے ہیں اور اس کے باہر با ہر خدا پرستی کا مظاہرہ کر کے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے نیک بندے بن گئے۔ حالاں کہ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنے پڑوسی اور اپنے صاحب معاملہ افراد کو شکایت کا موقع نہ دیتا ہو۔ لوگ غیر خدا کے ساتھ اپنی عقیدتیں وابستہ کرتے ہیں ، اپنے جیسے انسان کا دامن تھامتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے خدا سے اپنی عقیدتیں وابستہ کر رکھی ہیں، انھوں نے دونوں جہان کے مالک کا دامن تھام رکھا ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ٹھنڈے ٹھنڈے سفر کرتے ہوئے خدا کی رحمتوں کے سایہ میں پہنچ جائیں گے۔ حالاں کہ خدا کا اعلان ہے کہ وہ اپنی رحمتوں کے سایہ میں صرف ان کو لیتا ہے جو ہلا دینے والے مواقع پر اس کی جانچ میں پورے اترے ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ان کی کامیابیاں آخرت میں بھی ان کو کامیاب کر دیں گی۔ حالاں کہ آخرت کا معاملہ بالکل الگ معاملہ ہے۔ آخرت کا فیصلہ خدا کے اٹل قانون کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ لوگوں کے اپنے خیالات اور مزعومات کی بنیاد پر۔ لوگ سستی اور بے عنہ ریزیوں میں اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ آخرت سے ڈرتے ہیں۔ حالاں کہ آخرت سے ڈرنے کا ثبوت دینے کے مواقع وہ ہیں جہاں آخرت کی خاطر اپنے وقار کو مٹی میں ملا دینا ہو، جہاں اپنے مفاد کو قربان کر کے آخرت کی طرف بڑھنا ہو، جہاں اپنی تمناؤں کے محل کو خود اپنے ہاتھ سے ڈھا دینا پڑے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1980 All issues