Al-Risala · May 1980 · page 5

سورۂ نور کی روشنی میں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۵

اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (نور)

ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا حرام ہے۔ اور جب معاملہ مسلمان عورت کا ہو تو اس کی شناعت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ پاک باز مسلمان خاتون پر تہمت لگانا سو برس کے عمل کو ضا دیتا ہے (قذف المحصنة يهدم عمل مأة سنة) بخاری و مسلم کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو۔ لوگوں نے پوچھا اے خدا کے رسول وہ کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک جادو کرنا، اللہ کی حرام کی ہوئی جان کو حق کے بغیر قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدان جہاد سے بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا (وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات) اس میں ہمارے لئے بہت سے سبق ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں چند اشارے درج کئے جاتے ہیں۔

۱۔ ایک سادہ سے واقعہ کو بہانہ بنا کر جن لوگوں نے مذکورہ مہم چلائی ان کا مقصد رسول یا درجر رسول کو بدنام کرلے سے زیادہ دعوت اسلامی کو بدنام کرنا تھا۔ رسول کو اخلاقی حیثیت سے مشتبہ ثابت کر کے وہ دراصل رسول کی دعوت کو مشتبہ ثابت کرنا چاہتے تھے۔ یہی ہر زمانہ میں شیطان کا طریقہ ہے۔ مگر اس قسم کی کوشش خواہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کی جائے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ کیوں کہ حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے وہ براہ راست خدا کی حمایت کے تحت اٹھتی ہے۔ اس کو مشتبہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا گو یا خدا کے منصوبہ سے ٹکرانا ہے اور کون ہے جو خدا کے منصوبہ سے ٹکرا کر کامیاب ہو ۔ حق کی دعوت کے لئے مقدر ہے کہ وہ لازما قائم رہے، یہاں تک کہ وہ حق کو ناحق سے جدا کرنے میں آخری حد تک کامیاب ہو جائے۔

۲۔ امتحان کی اس دنیا میں ایک معصوم اور بے قصور آدمی کے ساتھ کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش آ سکتا ہے جس کو غلط معنی پہنایا جا سکے اور اس طرح خدا سے بے خوف لوگوں کو موقع مل جائے کہ وہ اس کے ذریعہ اس کو بدنام کر سکیں۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے لوگ ہیں ان کو ایسے موقع پر ہمیشہ خوش گمانی کے تحت رائے قائم کرنا چاہئے۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے کہ محض سن کر بلا تحقیق اس کو صحیح مان لیں اور اس کو شہرت دینے میں لگ جائیں۔

۳۔ ایسے کسی الزام کو درست ماننے کے لئے ضروری ہے کہ چار معتبر آدمی اس کے حق میں گواہی دیں۔ اگر الزام لگانے والا چار گواہ نہ پیش کر سکے تو یقین کیا جائے گا کہ وہ جھوٹا ہے۔ اور اس جرم میں اس کو ۱۰۰ کوڑے مارے جائیں گے۔ اس کے بعد اگر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور اپنی اصلاح کرنے تو امید ہے کہ اللہ اس کو معاف کر دے گا۔ مگر مسلمانوں کے معاملات میں گواہ بننے کے لئے پھر بھی وہ نا اہل رہے گا۔ اس کے بعد اس کی گواہی کبھی قبول نہیں کی جائے گی۔ ۴۔ کسی پاک دامن خاتون پر جھوٹی تہمت لگانا ایسا سنگین جرم ہے جس کی سخت ترین سزا نہ صرف آخرت میں ملتی ہے بلکہ دنیا میں بھی ایسے آدمی کو اس کی سزا مل کر رہتی ہے۔ کسی کی عزت پر حملہ کرنا کمینہ پن کی بات ہے اور ایسا جرم جس کے ساتھ کمینہ پن شامل ہو وہ آدمی کو اللہ کی رحمت سے آخری حد تک محروم کر دیتا ہے۔ ایسے شخص سے جہنم اتنی قریب آ جاتی ہے کہ وہ دنیا ہی میں اس کی آنچ سے جلنا شروع ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے پر حملہ سب سے پہلے اپنے آپ پر حملہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page