Al-Risala · May 1980 · page 6

سورۂ نور کی روشنی میں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۶

آدمی پہلے اپنے آپ کو قتل کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ دوسرے کے قتل کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہے۔

۵ - اسلامی ماحول خدا پرستی کا ماحول ہوتا ہے۔ اسلامی ماحول وہ ہے جہاں ہر آدمی اس احساس کے ساتھ اپنی زبان کھولے کہ اس کو اپنے بولے ہوئے الفاظ کا حساب اللہ کو دینا ہے۔ ایسے ماحول میں آدمی کو حد درجہ محتاط ہو کر رہنا چاہئے۔ ایسے ماحول میں جو لوگ غیر ذمہ دارانہ باتوں کو پھیلائیں وہ گویا اسلامی ماحول کی خدا پرستانہ فضا کو خراب کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں زہر گھول رہے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کے نزدیک سخت ترین مجرم ہیں۔ دنیا میں اگر وہ اپنی برأت کے لئے الفاظ پالیں تو اس بنا پر ان کو ہرگز دھوکے میں نہ رہنا چاہئے کہ وہ خدا کے یہاں بھی اپنی برأت کے لئے الفاظ پالیں گے۔ آخرت حقیقتوں کے کھل جانے کا مقام ہے۔ وہاں صرف وہ شخص بری الذمہ ٹھہرے گا جو حقیقت کی سطح پر رہے۔ جو حقیقت سے انحراف کرے وہ آخرت میں اس طرح پہنچے گا کہ وہاں اس کے لئے کوئی جگہ نہ ہوگی۔

۶- اس قسم کے کسی واقعہ کا ہمیشہ آنا بظا ہر ایک ناپسندیدہ بات ہے۔ مگر اس میں خیر کا پہلو بھی چھپا ہوا ہے۔ اس قسم کے ایک واقعہ کے درمیان یہ ثابت ہوتا ہے کہ کون ذمہ دار ہے اور کون غیر ذمہ دار کون اپنے سینہ میں دوسرے بھائیوں کی خیر خواہی لئے ہوئے ہے اور کون ہے جس کے دل میں دوسروں کے لئے حسد اور بغض بھرا ہوا ہے۔ کون اللہ کی جواب دہی کے احساس کے تحت ہوتا ہے اور کون جواب دہی کے احساس سے خالی ہو کر کلام کرتا ہے۔ اس طرح ایک طرف یہ ہوتا ہے کہ ان واقعات کے ذریعہ بد باطن لوگوں کا بد باطن ہونا کھل جاتا ہے۔ دوسری طرف اہل حق کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ خدا کی توفیق سے صبر کی روش پر قائم رہیں اور اللہ کی مزید عنایتوں کے مستحق بنیں۔

۷ - اس واقعہ سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حق کی دعوت جب بے آمیز شکل میں پیش کی جائے تو وہ لوگ کتنے زیادہ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں جن پر اس دعوت کی زد پڑتی ہو۔ ان مخالفین میں ایک تو عام دنیا دار ہوتے ہیں۔ وہ بھی اگرچہ ایسی تحریک کے مخالف ہوتے ہیں۔ مگر ان کی مخالفت ایک دائرہ کے اندر رہتی ہے۔ وہ داعی کو ناکام بنانے کے لئے زور لگاتے ہیں مگر اس کو بے عزت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ غزوہ احد کے واقعات میں آتا ہے کہ مکہ سے کافروں کا جو لشکر مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے روانہ ہوا تھا۔ وہ راستےمیں ابواء کے مقام پر پہنچا جہاں پیغمبر اسلام کی والدہ آمنہ بنت وہب کی قبر تھی۔ قریش کے کچھ پر جوش لوگوں نے چاہا کہ قبر کو کھودیں اور پیغمبر کی ماں کی بے حرمتی کریں۔ مگر خود قریش کے لوگوں نے ان کو برا بھلا کہا اور ان کو اس ارادہ سے روکا۔ وہ پیغمبر سے لڑنے جا رہے تھے مگر ان کی بے حرمتی کے لئے کوئی پست طریقہ اختیار کرنا ان کو گوارہ نہ ہوا۔ مگر یہود جو اپنے کو حق کا اجارہ دار سمجھتے تھے ان کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ انھوں نے بعض چیزوں کو بہانہ بنا کر آپ پر رکیک حملے کئے اور آپ کو اخلاقی حیثیت سے گرانے کی کوشش کی۔ مذکورہ تہمت طرازی کے اصل ذمہ دار یہی لوگ تھے۔ جو لوگ اپنے کو حق کا واحد نمائندہ سمجھتے ہوں، جب وہ اپنی حیثیت پر زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں تو ان کا رد عمل بے حد شدید ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف ایسی تحریک کا زور توڑنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس کے داعی کو بے عزت کرنے کی مہم بھی چلاتے ہیں۔ وہ اپنی مذہبی قیادت کو بچانے کے لئے ہر چیز کو اپنے لئے جائز کر لیتے ہیں خواہ وہ کوئی ذلیل حرکت یا کوئی پست کا رروانی کیوں نہ ہو۔ (۱۹ مارچ ۱۹۸۰)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page