Al-Risala · January 1980 · page 22

جواس کی انا کو توڑ دے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۲

طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو قاعدہ کے مطابق رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا ۔ اور تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں کہ تم نے جو کچھ ان عورتوں کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو مگر یہ کہ دونوں کو ڈر ہو کہ اللہ کی حدوں پر قائم نہ رہ سکیں گے ۔ پھر اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ دونوں اللہ کی حدوں پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر گناہ نہیں اس مال میں جس کو عورت فدیہ میں دے ۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں توان سے باہر نہ نکلو اور جو شخص اللہ کی حدوں سے نکل جائے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اگر وہ اس کو طلاق دیدے تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے ۔ پھر اگر وہ مرد اس کو طلاق دیدے تب گناہ نہیں ان دونوں پر کہ وہ پھر مل جائیں بشرطیکہ انھیں اللہ کی حدوں پر قائم رہنے کی توقع ہو۔ یہ خدا وندی ضابطے ہیں جن کو وہ بیان کر رہا ہے ان لوگوں کے لیے جو دانش مند ہیں۔ اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت تک پہنچ جائیں تو ان کو یا قاعدہ کے مطابق رکھ لو یا قاعدہ کے مطابق رخصت کر دو ۔ اور تکلیف پہنچانے کی غرض سے نہ روکو تا کہ ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا اس نے اپنا ہی برا کیا۔ اور اللہ کی آیتوں کو کھیل نہ بناؤ۔ اور یاد کرو اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو اور اس کتاب و حکمت کو جو اس نے تمھاری نصیحت کے لیے اتاری ہے۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ 231 طلاق ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو غیر معمولی حالات میں پیش آتا ہے۔ مگر اس انتہائی جذباتی معاملہ میں بھی تقویٰ اور احسان پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں مومن سے کس قسم کا سلوک اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔

نکاح کے رشتہ کو یکبارگی توڑنے کے بجائے اس کو تین مرحلوں میں انجام دینے کا حکم ہوا، جو چند ماہ میں اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ ایک انتہائی ہیجانی معاملہ میں اس قسم کا سنجیدہ طریقہ مقرر کر کے بتایا گیا کہ اختلاف کے وقت مومن کا رویہ کیسا ہونا چاہئے۔ اپنے مخالف فریق کے ساتھ اس کا سلوک غیر جذباتی انداز میں سوچا ہوا صابرانہ فیصلہ ہو نہ کہ اشتعال کے تحت ظاہر ہونے والا اچانک فیصلہ۔ اسی طرح طلاق کے جتنے آداب مقرر کئے گئے ہیں، سب میں زندگی کا بہت گہرا سبق موجود ہے۔ ________ علیحدگی کا ارادہ کرنے کے بعد بھی آدمی ایک مدت تک دوبارہ اتحاد کے امکان پر غور کرتا رہے۔ تعلقات کے خاتمہ کی نوبت آجائے تب بھی وہ اس کو حقوق انسانیت کے خاتمہ کے ہم معنی نہ بنائے۔ باہمی سلوک کے لئے اللہ کا جو قانون ہے اس کی مکمل پابندی کی جارہی ہے۔ کسی چیز کو قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر کرنا۔ ۔۔۔۔ قانون کی تعمیل میں صرف الفاظ قانون کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page