جواس کی انا کو توڑ دے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۱
لئے چار مہینے تک کی مہلت ہے۔ پھر اگر وہ رجوع کرلیں تو اللہ معاف کر دینے والا، مہربان ہے۔ اور اگر وہ طلاق کا فیصلہ کریں تو یقیناً اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، اور اگر وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے پیدا کیا ہے ان کے پیٹ میں۔ اور اس دوران میں ان کے شوہران کو پھر لوٹا لینے کا حق رکھتے ہیں اگر وہ صلح کرنا چاہیں۔ اور ان عورتوں کے لئے دستور کے مطابق اسی طرح حقوق ہیں جس طرح دستور کے مطابق ان پر ذمہ داریاں ہیں۔ اور مردوں کا ان کے مقابلہ میں کچھ درجہ بڑھا ہوا ہے۔ اور اللہ زبردست ہے، حکیم والا ہے۔ ۲۸ - ۲۲۲ ضد اور غصہ میں کبھی ایک آدمی قسم کھا لیتا ہے کہ میں فلاں آدمی کے ساتھ کوئی نیک سلوک نہیں کروں گا۔ قدیم زمانہ میں عربوں میں اس طرح کی قسموں کا بہت رواج تھا۔ وہ ایک بھلائی کا کام یا ایک اصلاح کا کام نہ کرنے کی قسم کھا لیتے اور جب ان کو اس نوعیت کے کام کے لئے پکارا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہم تو اس کو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہیں۔ یہ کہنا کہ میں بھلائی کا کام نہ کروں گا، یوں بھی ایک غلط بات ہے اور اس کو خدا کے نام کی قسم کھا کر کہنا اور بھی زیادہ برا ہے کیوں کہ خدا تو وہ ہستی ہے جو سراپا رحمت اور خیر ہے۔ پھر ایسے خدا کا نام لے کر اپنے کو رحمت اور خیر کے کاموں سے الگ کرنا کیوں کر درست ہو سکتا ہے۔ __بگاڑ ہر حال میں برا ہے۔ لیکن اگر بگاڑ کو خدا یا اس کے دین کا نام لے کر کیا جائے تو اس کی برائی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
بعض لوگ قسم کو تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اور غیر ارادی طور پر قسم کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے اور ہر آدمی کو اس سے بچنا چاہئے ۔ تاہم میاں بیوی کے تعلق کی نزاکت کی وجہ سے اس طرح کے معاملات میں ایسی قسم کو قانونی طور پر غیر مؤثر قرار دیا گیا۔ البتہ وہ کلام جو آدمی سوچ سمجھ کر منہ سے نکالے اور جس کے ساتھ قلبی ارادہ شامل ہو جائے ، اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ اس لئے اگر کوئی شخص ارادہً یہ قسم کھالے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اس کو قابل لحاظ قرار دے کر اس کو ایک قانونی مسئلہ بنا دیا گیا اور اس کے احکام مقرر کئے گئے۔ خاندانی نظام میں ، خواہ مرد ہو یا عورت ، ہر ایک کے حقوق بھی ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں بھی۔ ہر فرد کو چاہئے کہ دوسرے سے اپنا حق لینے کے ساتھ دوسرے کو اس کا حق بھی پوری طرح ادا کرے۔ کوئی شخص اتفاقی حالات یا اپنی فطری بالا دستی سے فائدہ اٹھا کر اگر دوسرے کے ساتھ نا انصافی کرے گا تو وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues