Killing of a sensation is a sin & Vice versa
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۹
کی تعریف کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میں تم کو ایک جامع تعریف بتاتا ہوں ۔ اس پر اپنے کو اور سب کو تول لو ۔ وہ تعریف ان کے الفاظ میں تھی:
Killing of a sensation is a sin & Vice versa
احساس کو مارنا گناہ ہے اور اسی طرح اس کے برعکس (احساس کو نہ مارنا نیکی ہے)۔ پوچھنے والے نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جانور کو ذبح کر کے کھاتے ہیں وہ کھلا ہوا پاپ کرتے ہیں۔ سوامی جی نے کہا اس میں کیا شک ہے ۔ آدمی نے کہا: مگر وہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ایک جانور کو کاٹ کر ہم چالیس آدمی کھاتے ہیں اور تم لوگ چالیس سبزیوں کو کاٹتے ہو تو صرف ایک آدمی کھاتا ہے ۔ اس لئے سبزی خوروں کا پاپ پھر بھی گوشت خوروں سے بڑھا ہوا ہے۔ سوامی جی نے کہا: ایسا نہیں۔ میں تم کو ایک مثال سے سمجھاتا ہوں۔ تمھارے سر پر ہزاروں بال ہیں۔ تم ان کو قینچی سے کاٹتے ہو تو کیا تکلیف ہوتی ہے ۔ آدمی نے کہا نہیں سوامی جی نے کہا: قینچی اگر سر کی کھال میں لگ جائے تو کیسا معلوم ہوگا۔ آدمی نے کہا: پھر توبہت تکلیف ہوگی۔ سوامی جی نے کہا: اسی سے سمجھ لو۔ بال تمھارے زندہ جسم کا حصہ ہیں۔ مگر ان میں حساسیت صفر کے درجہ میں ہے، اس لئے تم کو تکلیف نہیں ہوتی۔ جب کہ جسم کی کھال میں حساسیت پوری ہے اس لئے کھال میں قینچی لگنے سے تکلیف ہوتی ہے۔ جانور میں اسی طرح احساس ہوتا ہے جس طرح تمھارے اندر احساس ہے۔ مگر پودوں میں احساس اسی طرح بدرجہ صفر ہے جس طرح تمھارے بال میں ہے، اس لئے سبزی کھانا پاپ نہیں ہے۔ جب کہ جانور کھانا پاپ ہے۔ کیونکہ جانور کو کھانے کے لئے ایک حساس وجود کو مارنا پڑتا ہے ۔ آدمی نے کہا: گویا اس معاملہ میں آپ کے نزدیک اصل معیار احساس ہے۔ احساس ہو تو کاٹنا پاپ ہے اور احساس نہ ہو تو کاٹنا پاپ نہیں۔ سوامی جی نے کہا ہاں۔ آدمی نے کہا: آپ کو معلوم ہے کہ آج کل ایسے انجکشن تیار ہو گئے ہیں جن کو لگا دیا جائے تو احساس بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جانور کو اگر اس قسم کا انجکشن لگا دیا جائے اور اس کے بعد اس کو کاٹا جائے تو آپ کے معیار کے مطابق اس کو کاٹنا پاپ نہ ہوگا۔ سوامی جی کا چہرہ جو اس سے پہلے روشن تھا، اچانک پھیکا پڑ گیا ۔ " اصل بات یہ ہے ۔ ۔ ۔ " انھوں نے کہا اور دوسری دوسری بحثیں شروع کر دیں۔ آدمی نے کہا کہ آپ اپنا موقف نہ بدلے۔ یا تو میری بات کا جواب دیجئے یا اعتراف کیجئے کہ نیکی اور بدی کے لئے آپ کا معیار درست نہیں۔ مگر سوامی جی نے دونوں میں سے کوئی بات نہ کی۔ بلکہ دوسری دوسری بحثیں چھیڑ کر ظاہر کرتے رہے کہ ان کی بات رد نہیں ہوئی ہے۔ آدمی کسی بات کو صحیح سمجھ لے اور اس پر اس کو ایک مدت گزر جائے تو وہ اس سے اتنا نہ زیادہ مانوس ہو جاتا ہے کہ اس کی صداقت پر یقین کرنے کے لئے اس کو دلیل کی ضرورت نہیں رہتی ۔ اگر ایسے دلائل سامنے آئیں جو اس کی بات کو غلط ثابت کر دیں تب بھی مذکورہ عقیدہ کے ساتھ اپنی نفسیاتی وابستگی کی بنا پر اس کا یقین باقی رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ دلیل کی کاٹ خواہ اس کے پاس موجود نہ ہو مگر اس کے عقیدہ کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ دلیل اس کے لئے ہے جو دلیل پر کھلے ذہن سے غور کرے۔ جو شخص دلیل پر غور نہ کرے اس کے لئے کوئی دلیل دلیل نہیں۔