اسلامی سماج کیسا ہوتا ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۸
کام بگاڑنے کی کشش بھی نہ کرے۔ اگر دوسروں کے لئے اس کے پاس میٹھے بول نہ ہوں تو وہ ان کو کڑوا بول بھی نہ دے۔ امام مالک نے موطا میں روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے ایسی بات بتائیے جس کے ساتھ میں جیوں (یا رسول اللہ عنمنی کلمات اعیش بھن) آپ نے فرمایا: غصہ نہ کر (لا تغضب) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی سماج مثبت نفسیات رکھنے والوں کا سماج ہے۔ اس کے افراد ہر قسم کی منفی نفسیات سے پاک ہوتے ہیں۔ غصہ ہر قسم کی منفی نفسیات کی جڑ ہے۔ "غصہ نہ کر" کا مطلب یہ ہے کہ منفی نفسیات میں نہ جیو بلکہ مثبت نفسیات میں جیو۔ دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو یا دوسروں سے تم کو تکلیف پہنچے تو اس کا جواب تم غصہ، نفرت، انتقام، حسد اور حقارت جیسے جذبات سے نہ دو۔ بلکہ محبت، انصاف، خیر خواہی اور عفو و درگزر کا طریقہ اختیار کرو۔ بھی کوئی معاملہ پیش آئے تو ٹھنڈے دل سے سوچو اور صرف وہ کرو جو اللہ کی رضا کے اعتبار سے سب سے بہتر ہو نہ کہ وہ جس سے تمھارے بھڑکتے ہوئے جذبات کو تسکین مل رہی ہو۔ کسی کے خلاف تمھاری کارروائی جوابی کارروائی نہ ہو بلکہ اللہ کی جواب دہی کو سامنے رکھتے ہوئے ایک سوچی سمجھی کارروائی ہو۔ تمھاری غذا غصہ اور نفرت اور انتقام نہ ہو، بلکہ برداشت کرنا اور معاف کر دینا ہو۔ تم غصہ نہ کرنے میں جیو، نفرت نہ کرنے میں جیو، انتقام نہ لینے میں جیو، حسد نہ کرنے میں جیو۔
اسلامی معاشرہ میں جب ایک شخص دوسروں سے انصاف کرتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لئے عام معنوں میں محض ایک اخلاقی یا انسانی معاملہ نہیں ہوتا۔ یہ اس کے لئے ایسا مسئلہ ہوتا ہے جس پر آخرت میں اس کی نجات کا انحصار ہو ۔ جو شخص بندوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے وہی آخرت میں اس قابل ٹھہرے گا کہ خدا اس کے ساتھ بہتر سلوک کرے ۔ اور جو شخص دوسرے انسانوں کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرے اس کے لئے آخرت میں خدا کی رحمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ یہی دنیا کی زندگی میں آدمی کا امتحان ہے اور یہ امتحان خاص طور پر کمزور اور بے سہارا انسانوں کے بارے میں لیا جاتا ہے کیوں کہ ایسے افراد کے ساتھ بہتر سلوک کے لئے خدا کی رضا کے سوا اور کوئی محرک نہیں ہوتا۔ آدمی جب طاقتور کے ساتھ بہتر سلوک کرے تو اس میں یہ امید شامل رہتی ہے کہ دوسرے شخص کی طرف سے کسی نہ کسی صورت میں اس کا بدلہ ملے گا۔ اسی طرح جب جب کسی عوامی موقع پر آدمی انسانیت دوستی کا ثبوت دیتا ہے تو اس میں بھی یہ امید ہوتی ہے کہ اس سے آدمی کی شہرت و عزت میں اضافہ ہو گا۔ مگر جب ایک تنہا اور بے زر آدمی اس کے سامنے ہو اور اس سے مدد کی درخواست کرے تو وہاں اس قسم کی کوئی کوشش موجود نہیں ہوتی۔ اور اگر یہ بے زر شخص ایک ایسا شخص ہو جس سے آدمی کو تکلیف اور شکایت پہنچی ہے تو ایسے موقع پر یہ عدم جا ذبیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس وقت جو آدمی بے غرض ہو کر اور شکایات سے اوپر اٹھ کر اس کی مدد کرتا ہے تو وہ خالص خدا کے لئے ایسا کر رہا ہے، کیونکہ خدا کی رضا کے سوا کوئی دوسری کھینچنے والی چیز وہاں موجود نہیں۔ جہاں ہر قسم کی دوسری کشش ختم ہو جائے وہاں خدا کی کشش موجود ہوتی ہے۔ اور جو شخص خالص خدا کے لئے دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرے وہ خدا کا محبوب ترین بندہ ہوتا ہے۔ وہ عین اس مقام پر خدا کو پا لیتا ہے جہاں اس نے خالص خدا کی خاطر کسی بندے کا آنسو پوچھا تھا۔