Al-Risala · January 1980 · page 24

جواس کی انا کو توڑ دے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۴

اور تم میں سے جو لوگ مرجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے دس دن تک انتظار میں رکھیں، پھر جب وہ اپنی مدت کو پہنچیں تو جو کچھ وہ اپنی ذات کے بارے میں قاعدہ کے موافق کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ۔ اور اللہ تمہارے تموں سے پوری طرح باخبر ہے۔ اور تمہارے لئے اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو پیغام دینے میں کوئی بات اشارہ کرو یا اپنے دل میں چھپائے رکھو ۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم ضرور ان کا دھیان کرو گے۔ مگر چھپ کر ان سے وعدہ نہ کرو، تم ان سے صرف دستور کے مطابق کوئی بات کہہ سکتے ہو۔ اور عقد نکاح کا ارادہ اس وقت تک نہ کرو جب تک مقررہ مدت اپنی ختم کو نہ پہنچ جائے ۔ اور جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، پس اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا، تحمل والا ہے۔ اگر تم عورتوں کو ایسی حالت میں طلاق دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے لئے کچھ مہر مقرر کیا ہے تو ان کے مہر کا کام پر کچھ مواخذہ نہیں۔ البتہ ان کو دستور کے مطابق کچھ سامان دے دو، وسعت والے پر اپنی حیثیت کے مطابق اور تنگی والے پر اپنی حیثیت کے مطابق، نیکی کرنے والوں پر لازم ہے۔ اور اگر تم ان کو طلاق دو قبل اس کے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ اور تم ان کے لئے کچھ مہر بھی مقرر کر چکے تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا آدھا ادا کر دو ۔ الا یہ کہ وہ معاف کر دیں یا وہ مرد معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ اور تمہارا معاف کر دینا زیادہ قریب ہے تقویٰ سے۔ اور آپس میں احسان کرنے سے غفلت مت کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ ۲۴۳-۲۳ نکاح اور طلاق کے قوانین بیان کرتے ہوئے بار بار تقویٰ اور احسان کی تلقین کی جارہی ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی حکم کو اس کی اصلی روح کے ساتھ زیرِ عمل لانے کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ کے افراد خالص قانونی معاملہ کرنے والے نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا جذبہ رکھتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کو یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرنا خود اپنے بارے میں بہتر سلوک نہ کئے جانے کا خطرہ مول لینا ہے۔ کیوں کہ بالآخر سارا معاملہ خدا کے یہاں پیش ہونا ہے اور وہاں نہ لفظی تاویلیں کسی کے کام آئیں گی اور نہ کسی کے لئے یہ ممکن ہوگا کہ وہ معاملہ سے متعلق کسی بات کو چھپا سکے۔

اگر نکاح کے وقت عورت کا مہر مقرر ہوا اور تعلق قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوگئی تو باعتبار قانون آدھا مہر دینا لازم کیا گیا ہے۔ مگر خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ دونوں اس معاملہ میں قانونی برتاؤ کے بجائے فیاضانہ برتاؤ کرنا چاہیں۔ عورت کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب تعلق قائم نہیں ہوا تو میں آدھا مہر بھی چھوڑ دوں۔ مرد کے اندر یہ جذبہ ابھرے کہ اگرچہ قانوناً میرے اوپر صرف آدھے کی ذمہ داری ہے مگر فیاضی کا تقاضا ہے کہ میں پورا کا پورا ادا کر دوں۔ فیاضی اور وسعت ظرف کا یہی مزاج تمام معاملات میں مطلوب ہے۔ وہی معاشرہ مسلم معاشرہ ہے جس کے افراد کا حال ہو کہ ایک دوسرے کو دینا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے سے لینے کا حریص رہنا ہو اور مزید پر وسعت ظرف

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page