جواس کی انا کو توڑ دے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۵
میں وصیت کر دیں کہ ایک سال تک ان کو گھر میں رکھ کر خرچ دیا جائے۔ پھر اگر وہ خود سے گھر چھوڑ دیں تو جو کچھ وہ اپنی ذات کے معاملہ میں دستور کے مطابق کریں اس کا تم پر کوئی الزام نہیں۔ اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے، اور طلاق دی ہوئی عورتوں کو بھی دستور کے مطابق خرچ دینا ہے، یہ لازم ہے پرہیز گاروں کے لئے۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو ۴۲ - ۲۳۸ نماز گویا دین کا خلا صہ ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی وہ مختصر تصویر ہے جو پھیلتی ہے تو مکمل اسلامی زندگی بن جاتی ہے۔ یہاں ایک مختصر فقرہ میں نماز کے تین اہم ترین اجزاء کو بیان کر دیا گیا ہے (۱) نماز کا پانچ وقت کے لئے فرض ہونا (۲) نماز کا ایک قابل اہتمام چیز ہونا (۳) یہ بات کہ نماز کی اصل حقیقت عجز ہے۔ "پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی"۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں میں ایک بیچ کی نماز ہے اور پھر اس کے دونوں طرف نمازیں ہیں۔ اس جملہ میں اطراف کی" نمازوں " سے کم از کم چار کا عدد مراد لینا ضروری ہے کیوں کہ عربی زبان میں صلوا ت (نماز وں ) کا اطلاق تین یا اس سے زیاوہ کے عدد کے لئے ہوتا ہے۔ پہلا ممکن عدد جس میں " نماز وں" کے درمیان ایک بیچ کی نماز " بن سکے چار ہی ہے۔ اس طرح ایک نماز بیچ کی نماز ہو کر اس کے دونوں طرف دو نمازیں ہو جاتی ہیں۔ " بیچ کی نماز" سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے۔ نماز کے دوسرے پہلو کو بتانے کے لئے " محافظت " کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا نماز اسی طرح حفاظت کی ایک چیز ہے جس طرح مال آدمی کے لئے حفاظت کی چیز ہوتا ہے۔ نماز کے اوقات کا پورا لحاظ، اس کو بتائے ہوئے طریقہ پر ادا کرنے کا اہتمام، ایسی چیزوں سے بالا قصد پر ہیز جو آدمی کی نماز میں کوئی خرابی پیدا کرنے والی ہوں وغیرہ، محافظت نماز میں شامل ہیں۔ نماز کا تیسرا پہلو عجز ہے۔ یہ نماز کی اصل روح ہے، نماز بندے کا اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ نماز کے وقت آدمی کے اوپر وہ کیفیت طاری ہو جو سب سے بڑے کے آگے کھڑے ہونے کی صورت میں سب سے چھوٹے کے اوپر طاری ہوتی ہے۔
معاشرت کے احکام بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ " یہ حق ہے متقیوں کے اوپر"، شریعت کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ باہمی معاملات میں کچھ حقوق دہ ہیں جن کو قانون نے متعین کر دیا ہے۔ مگر ایک آدمی پر دوسرے کے حقوق کی حدیں نہیں ہوجاتیں۔ متعین حقوق کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔ یہ حقوق وہ ہیں جن کو آدمی کا تقویٰ اس کو محسوس کراتا ہے، اور آدمی کا متقیانہ احساس جتنا شدید ہو اتنا ہی زیادہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے۔ اندر کا یہ زور اگر موجود نہ ہو تو آدمی کبھی صحیح طور پر دوسروں کے حقوق ادا نہیں کر سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues