انسان سے معاملہ کرتے ہوئے اللہ کو یاد رکھنا
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۱
انسان سے معاملہ کرتے ہوئے اللہ کو یاد رکھنا
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک بار اپنے غلام کو مار رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا: ابو مسعود! جان لو اس غلام پر تم کو جتنی قدرت ہے، اللہ کو تمھارے اوپر اس سے زیادہ قدرت ہے۔ ابو مسعود انصاری رضہ آپ کی زبان سے یہ سن کر کانپ اٹھے اور کہا: اے خدا کے رسول اس غلام کو میں اللہ کی راہ میں آزاد کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا نہ کرتے تو دوزخ کی آگ تم کو پکڑ لیتی (ابوداؤد، کتاب الادب، باب حق المملوک) اپنے اوپر قیاس کر کے بد گمانی سے بچنا افک کا قصہ جس میں نعوذ باللہ حضرت عائشہ رضہ پر الزام لگایا جائے۔ ۔ اس کے ذیل کے بہت سے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضہ سے ان کی بیوی نے کہا کہ لوگ عائشہ کی نسبت ایسا اور ایسا کہتے ہیں ۔ انھوں نے جواب دیا کہ کہنے والے جھوٹے ہیں۔ پھر انھوں نے اپنی بیوی سے پوچھا: تم بتاؤ، کیا تم ایسا کام کر سکتی ہو، خاتون نے کہا ہرگز نہیں۔ حضرت ابوالایوب نے فرمایا: پھر عائشہ رضہ تم سے کہیں زیادہ پاک اور طاہر و مطہر ہیں، ان کی نسبت ایسا بر اگمان کیوں کیا گیا مسلمان کی بہتری پر خوش ہونا طبرانی نے ابن بریدہ اسلمی سے روایت کیا ہے۔ عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انی لا سمع بالغيث قد اصاب البلد من بلاد المسلمين فأفرح ومالی به سائمة (حلیة الاولیاء) میں سنتا ہوں کہ مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر میں بارش ہوئی ہے تو میں خوش ہوتا ہوں، حالاں کہ میرا کوئی جانور وہاں چرنے والا نہیں ۔ اللہ کی خاطر انتقامی کارروائی سے رک جانا غزوہ بنی المصطلق سے واپسی میں ایک اتفاقی غلطی سے عائشہ رضی اللہ عنہا راستہ میں رہ گئیں۔ بعد کو ایک صحابی نے ان کو میدان میں دیکھا تو اپنے اونٹ سے اتر کر ان کو بٹھایا اور خود اونٹ کی نکیل پکڑ کر کہ چلتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ کو مدینہ پہنچا دیا اس واقعہ کو مدینہ کے منافقین نے شوشہ بنایا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلانے لگے۔ منافقین کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے والوں میں ایک مسطح بھی تھے جو ابو بکر رضی اللہ عنہ کے رشتہ دار تھے اور آپ ان کو ہر ماہ مدد کے طور پر کچھ رقم دیا کرتے تھے۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس پروپیگنڈے میں مسطح بھی شریک ہیں تو انھوں نے کہا: خدا کی قسم اب میں مسطح کو کچھ بھی نہیں دوں گا۔ اس کے بعد قرآن میں حکم اترا کہ تم میں سے جو لوگ مال اور قدرت رکھتے ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ اپنے رشتہ دار مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ کی مدد نہ کریں گے ۔ ان کو چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کر دے اور اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے (النور (۲۳) یہ آیت اتری تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں میں یہ تو اکی قسم مجھے محبوب ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے زعلیٰ واللہ انی لا احب ان یغفر لي، سیرت ابن ہشام) اور اس کے بعد دوبارہ مسطح کی رقم جاری کر دی ۔
اللہ اس کو قیامت کے دن آگ سے بچائے گا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کو بے آبر وئی سے بچائے ، قیامت کے دن اللہ اس کو آگ سے