Al-Risala · May 1980 · page 44

خدا سے ڈرنے والے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴

"ہر ایک کے پاس اپنی عظمت کی داستانیں ہیں، خدا کی عظمت کی داستان کسی کے پاس نہیں، " یہ فقرہ اکثر درد ناک آہ کے ساتھ میری زبان سے اس وقت نکل جاتا ہے جب میں ان اخبارات ور سائل کو پڑھتا ہوں جو مختلف اسلامی اداروں اور جماعتوں نے اپنی ترجمانی کے لئے نکال رکھے ہیں اور روزانہ چھپ چھپ کر لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ ایک آدمی اپنی محبوب شخصیت کے حق میں لمبا نثری قصیدہ پڑھے گا جس میں یہ خبر دی جائے گی کہ " آپ کی ذات گرامی کے آفتاب سے گوشے گوشے جگمگا رہے ہیں، مگر طویل تحریر میں کبھی بھی یہ محسوس نہ ہوگا کہ کہنے اور سننے والے خدا کی عظمت و جلال کے احساس سے لرز رہے ہیں اور رب العالمین کے بے پایاں کر شموں کو دیکھ کر محو حیرت ہیں۔ البتہ خاتمہ کلام پر یہ فقرہ ادا کر دیا جائے گا: «واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین - کلام کے پورے مجموعہ میں دیکھیے تو عربی کا یہ فقرہ ایک بے جوڑ سافقرہ معلوم ہوگا۔ جس کلام میں انسانی عظمت کے آبشار برسائے جا رہے ہوں وہاں " تمام تعریف صرف اللہ کے لئے ہے" کہنے کا کیا مقام۔ اس قسم کا فقرہ ہمیشہ رسمی ہوتا ہے نہ کہ حقیقی ۔ انسان کی عظمت کا طویل قصیدہ پڑھنے کے بعد یہ مختصر عربی فقرہ حقیقتہً اللہ کی حمدیہ کے جذبہ سے نہیں نکلتا بلکہ صرف تبرک یا رسم کی خانہ پری کے لئے ہوتا ہے۔ کسی دوسرے مذہب کا آدمی ہو اور وہ اپنی محبوب شخصیت کا قصیدہ پڑھے تو وہ اپنے کلام کے آخر میں اپنے مذہب اور روایات کے لحاظ سے کوئی فقرہ بول دے گا اور مسلمان اپنے مذہب اور روایات کے لحاظ سے ۔ بظاہر دونوں ایک دوسرے سے مختلف معلوم ہوتے ہیں۔ ایک کا فقرہ "اسلامی" فقرہ ہے اور دوسرے کا "غیر اسلامی " فقرہ ۔ مگرجس نفسیاتی حالت کے تحت یہ فقرے نکلے ہیں، اس کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ اندرونی کیفیت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ایک شخص اپنی روایتی تسکین کے لئے عربی فقرہ کا تلفظ کر رہا ہے، دوسرا کسی غیر عربی فقرہ کا۔ جو لوگ اپنے ان شغلوں پر خوش ہیں اور ان کو کارنامہ سمجھتے ہیں وہ بہت جلد جان لیں گے کہ ان کی یہ سرگرمیاں خدا کی نظر میں اس سے بھی زیادہ بے قیمت تھیں جتنا کہ مٹی کے ڈھیر میں ایک چیونٹی کا رینگنا ۔ یہ زمین کسی کے " اکابر " کی جلوہ گاہ نہیں، یہ خدا کی تجلیات کا ظہور ہے۔ جب بھی خدا کے سوا کسی اور کی تعریف اس زمین پر کی جاتی ہے تو وہ سب سے بڑا جھوٹ ہوتا ہے جو کوئی شخص بولتا ہے۔

انسانی عظمت کے قصیدے جب پڑھے جاتے ہیں تو زمین و آسمان کی ہر چیز پڑھنے اور سننے والوں پر لعنت بھیجتی ہے مگر جب خدا کی عظمت کا چرچا کیا جائے تو زمین و آسمان اس کے ہم آواز ہوجاتے ہیں۔ انسانی عظمت کے قصیدے جھوٹی زبانوں سے نکلتے ہیں اور جھوٹے کانوں سے سنے جاتے ہیں۔ مگر جب کسی کو خدا کی عظمت بیان کرنے کی توفیق ملتی ہے تو یہ ایک ملکوتی کلام ہوتا ہے جو فرشتوں کی ہم نشینی سے کسی کی زبان سے ابلتا ہے ۔ جو لوگ کسی انسان کی عظمت سے مسحور ہوں وہ اس کی شان میں الفاظ کے دریا بہاتے ہیں جب کہ خدا کی عظمت سے مسحور ہونے والے شخص پر چپ لگ جاتی ہے ۔ انسانی عظمت کے چرچے پر رونق مجلسوں اور عمدہ چھپے ہوئے کاغذوں میں ہوتے ہیں اور اللہ کی عظمت کا چرچا ایک بندہ خدا کے قلب میں ہوتا ہے اور صرف اس کی تنہائیوں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے کہ وہ اس کو سنیں اور دیکھیں ۔ خدا کی عظمتوں میں جینے والے اور انسان کی عظمتوں میں جینے والے میں وہی فرق ہے جو خود خدا اور انسان میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page