خدا سے ڈرنے والے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۳
خدا سے ڈرنے والے
ہٹلر کی حکومت کے زمانہ میں جرمنی میں جب یہودی پکڑے جانے لگے تو وہاں بہت سے لطیفے مشہور ہوئے۔ ایک لطیفہ یہ تھا کہ شہر کی ایک سڑک پر ایک یہودی بھاگا جارہا تھا۔ دوسرے یہودی نے اس کو دیکھ کر پوچھا کہ تم کیوں بھاگ رہے ہو۔ اس نے کہا "تم بھی بھاگو"، اس نے دوبارہ پوچھا "آخر کیوں"، بھاگنے والے یہودی نے جواب دیا: چڑیا گھر سے ایک بھیڑیا بھاگ نکلا ہے اور اس کو گولی مارنے کا حکم ہوا ہے۔ دوسرے یہودی نے حیران ہو کر کہا: ہم کو کیا ڈر ہے، ہم بھیڑئے تو نہیں ہیں، پھر ہم کیوں بھاگیں"۔ پہلے یہودی نے جواب دیا: ہاں ہم بھیڑئے نہیں ہیں، مگر کیا ہم اس کو ثابت کر سکتے ہیں ۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈر کی نفسیات سے جو انسان بنتا ہے وہ کیسا انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر مسئلہ کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے۔ کیوں کہ اس کو ڈر ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے کہیں میں نہ پکڑا لیا جاؤں۔ کسی سے ڈرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اپنے کو کمزور پا رہا ہے۔ وہ فیصلہ کا سزا دوسرے کے ہاتھ میں سمجھتا ہے۔ اور جب بھی فیصلہ کا سزا دوسرے کے ہاتھ میں ہو تو لازماً ایسا ہوگا کہ آدمی اندیشہ میں مبتلا رہے گا، اس کو یہ ڈر لگا رہے گا کہ کہیں میں ہی مجرم نہ قرار دے دیا جاؤں۔ ایک بکری جو مجھ سے بہت دور فرات کے کنارے مری ہو، اگر اس کے مرنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی جائے تو میرے پاس کیا جواب ہوگا۔ اور میں کس طرح اپنے کو بری الذمہ ثابت کر سکوں گا۔ اللہ تمام طاقتوں سے بڑھ کر طاقت ور ہے۔ تمام فیصلوں کا سرا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ایسی حالت میں جو شخص اللہ کو پالے وہ اس کی طرف سے مستقل اندیشہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہر معاملہ میں وہ سو چنے لگتا ہے کہ خدا کی عدالت میں کہیں مجھ کو اس کا ذمہ دار نہ قرار دے دیا جائے ۔ اپنے کو بچانے کا جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ لوگوں سے معاملہ کرنے میں وہ حد درجہ محتاط رہے، لوگوں کے ساتھ وہ ہمیشہ فیاضی کا سلوک کرے، وہ لوگوں کے حق سے زیادہ انھیں دے ۔ اس کا کوئی ساتھی یا اس کا ماتحت اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا خطرہ وہ اپنے اوپر محسوس کرتا ہے ۔ کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ خدا اگر قیامت میں کہہ دے کہ تمھاری وجہ سے اس کو یہ جرأت ہوئی تو میرے پاس کیا عذر ہوگا۔ اس کی لاعلمی میں ظلم کا ایک واقعہ ہو تب بھی وہ کانپ جاتا ہے کہ اگر خدا کے یہاں یہ کہا جائے کہ تم عوامی قائد بنے ہوئے تھے تو تم اس سے باخبر کیوں نہ ہوئے تو میں خدا کو کیا جواب دوں گا۔ اس کے دائرہ میں کوئی شخص کسی کو ستاتا ہے تو وہ بے تاب ہو جاتا ہے کیوں کہ وہ ڈر جاتا ہے کہ اگر خدا یہ کہے کہ تم نے اپنی کارروائیوں سے جو ماحول بنایا اس کی وجہ سے ایسا واقعہ ممکن ہو سکا تو میں کس طرح اپنے کو بری الذمہ ثابت کروں گا۔ کوئی شخص اس کو مدد کے لئے پکارتا ہے اور وہ ایک عذر کر کے آگے بڑھ جاتا ہے تو وہ لرز اٹھتا ہے ۔ کیوں کہ یہ احساس اس کو پریشان کر دیتا ہے کہ قیامت میں اگر خدا یہ کہہ دے کہ تم نے اپنے جس کام کو عذر بنایا اس سے زیادہ ضروری یہ تھا کہ تم اس کو چھوڑ کر میرے بندے کا ساتھ دیتے تو میں کیا کہہ کر چھوٹ سکوں گا۔