Al-Risala · June 1980 · page 4

قابلیت اور مستعدی

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۴

قابلیت اور مستعدی

راجہ مہندر پرتاپ (۱۹۷۹-۱۸۸۶) ہندوستان کے ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے روس جاکر ولادیمیر لینن (۱۹۲۴-۱۸۷۰) سے ملاقات کی تھی۔ وہ ۱۹۱۹ میں آزادی پسندوں کے ایک وفد کے ساتھ لینن سے ملے۔ وہ جب اشتراکی روس کے پہلے حکمران کے کمرے میں داخل ہوئے تو لینن کھڑا ہوگیا۔ کمرے کے ایک گوشہ سے وہ خود ہی ایک چھوٹی آرام کرسی اٹھا کر لایا۔ راجہ مہندر پرتاپ کہتے ہیں کہ میں آرام کرسی پر بیٹھا اور میرے ساتھ قریب کے ایک چھوٹے صوفہ پر لینن بیٹھ گیا۔ لینن کا پہلا جملہ یہ تھا :

In which language should I speak : English, German, French or Russian میں کس زبان میں بولوں۔ انگریزی میں، جرمن میں، فرانسیسی میں یا روسی میں۔ بالآخر ہوئے ہوا کہ انگریزی زبان میں گفتگو ہو۔ راجہ مہندر پرتاپ نے اپنی ایک کتاب لینن کو پیش کی۔ اس کتاب کا نام تھا ـــــ پریم دھرم The Religion of Love. لینن نے کتاب کو ہاتھ میں لیتے ہی فوراً کہا: "میں اس کتاب کو پڑھ چکا ہوں"۔ راجہ مہندر پرتاپ کہتے ہیں کہ میں حیران ہوا کہ لینن کو آخر یہ کتاب کہاں سے ملی۔ پوچھنے پر لینن نے بتایا کہ پچھلے دن شام کو جب آپ میرے سکریٹری سے ملاقات کا وقت مقرر کرنے کے لئے ملے تھے تو آپ نے سکریٹری کو اس کتاب کا ایک نسخہ دیا تھا۔ سکریٹری نے آپ کا تعارف کرتے ہوئے یہ کتاب مجھے دکھائی۔ میں نے کتاب اس بے لے لی اور رات ہی کو اسے پڑھ ڈالا۔ تاکہ کل صبح میں جس شخص سے ملنے والا ہوں، اس کے خیالات سے واقف ہو جاؤں۔ "

لینن جدید روس کا بانی ہے۔ وہ غیرمعمولی صلاحیتوں والا آدمی تھا۔ اوپر کے واقعہ سے اس کی دو خصوصیات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک قابلیت، دوسرے مستعدی۔ اس نے تعلیم اور مطالعہ میں اتنی محنت کی تھی کہ وہ چار مختلف زبانیں جانتا تھا اور بیک وقت چاروں زبانوں میں گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اسی کے ساتھ اس کی مستعدی کا عالم یہ تھا کہ دنیا کا انتہائی مصروف حکمران ہونے کے باوجود ایک غیر معروف ہندوستانی کی کتاب اس نے راتوں رات محض اس لئے پڑھ ڈالی کہ کل کے دن وہ جس سے ملنے والا ہے اس کے خیالات کا اس کو پیشگی اندازہ ہو جائے ۔ اس نے اپنی فطری صلاحیتوں کو بھر پور طور پر بروئے کار لانے کی کوشش کی اور اسی کے ساتھ عمل کے مواقع پر بھر پور عمل کیا، وہ دنیا کا ایک کامیاب لیڈر بن گیا۔ اسلام کی خدمت کا میدان ہو یا غیر اسلام کی خدمت کا، وہی لوگ دنیا میں کوئی بڑا کام کرتے ہیں۔ جو ان دو خصوصیات کا ثبوت دیں، ایک طرف وہ وقت کے مطابق مکمل علمی قابلیت رکھتے ہوں۔ دوسرے وہ اپنی کار کردگی میں پوری طرح مستعدی کا ثبوت دیں۔ قابلیت اور مستعدی کے ان ضروری اوصاف کے بغیر نہ اسلام کا کوئی کام کیا جاسکتا ہے اور نہ غیر اسلام کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page