Al-Risala · June 1980 · page 5

کل کو یا د رکھیے

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۵

کل کو یا د رکھیے

لارڈ کرزن ۱۸۹۸ میں ہندوستان کے وائسرائے ہو کر انگلستان سے یہاں آئے۔

ان کے دو لڑکیاں تھیں ۔ تیسری پیدائش کے وقت لارڈ کرزن اور لیڈی کرزن کی بہت خواہش تھی کہ ان کے یہاں لڑکا پیدا ہو۔ دونوں بڑی امیدوں کے ساتھ آنے والے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ مگر تیسری بار بھی مارچ ۱۹۰۴ میں ان کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی۔ اس وقت ان کا قیام نالدرا میں تھا اس مناسبت سے انھوں نے اپنی لڑکی کا نام الگزنڈر نالدرا کرزن رکھا۔ لارڈ کرزن نے اس زمانہ میں اپنی بیوی کے نام جو خطوط لکھے ان میں سے ایک خط وہ ہے جو انھوں نے شملہ سے لندن بھیجا تھا۔ اس خط میں انھوں نے اپنی بیوی کو تسکین دلانے کی کوشش کی۔ ان کے خط کا ایک جملہ یہ تھا : لڑکا یا لڑکی کا کیا فائدہ جب کہ ہم دونوں اس دنیا سے جا چکے ہوں گے۔

After all what does sex matter after we are both of us gone. لارڈ کرزن کا یہ جملہ محض مایوس نفسیات کو چھپانے کی ایک کوشش تھی۔ لیکن یہی بات اگر آدمی کے اندر شعوری طور پر پیدا ہو جائے تو دنیا کا آدھا مسئلہ حل ہو جائے۔ دولت، اولاد، اقتدار، یہی وہ چیزیں ہیں جن کو آدمی سب سے زیادہ چاہتا ہے اور ان کو حاصل کرنے کے لئے سب کچھ کر ڈالتا ہے۔ اگر آدمی یہ سوچ لے کہ کسی چیز کو پانے کا کیا فائدہ جب کہ چند ہی روز بعد اس کو چھوڑ کر چلا جانا ہے تو لوگوں کے اندر قناعت آجائے، اور دنیا کا تمام ظلم و فساد ختم ہو جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہاں پانے اور نہ پانے میں بہت زیادہ فرق نہیں۔ جو پانا اگلے روز کھونا بننے والا ہو اس پانے کی کیا قیمت ہے۔ آدمی اپنی ساری کوشش خرچ کر کے جو چیز حاصل کرتا ہے وہ صرف اس لئے ہوتی ہے کہ اگلے لمحہ وہ اس کو کھو دے۔ ہر زندگی بالآخر موت سے دو چار ہونے والی ہے، ہر وہ محبوب چیز جس کو آدمی اپنے گردو پیش جمع کرتا ہے اس کو چھوڑ کر وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلا جانے والا ہے۔ آدمی "آج" میں جیتا ہے، وہ "کل" کو بالکل بھولا ہوا ہے۔ آدمی دوسرے کا گھر اجاڑ کر اپنا گھر بناتا ہے حالاں کہ اگلے دن وہ قبر میں جانے والا ہے۔ آدمی دوسرے کے اوپر جھوٹے مقدمے چلا کر اس کو انسانی عدالت میں لے جاتا ہے حالانکہ فرشتے خود اس کو خدا کی عدالت میں لے جانے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں، آدمی دوسرے کو نظر انداز کر کے اپنی عظمت کے گنبد میں خوش ہوتا ہے حالاں کہ بہت جلد اس کا گنبد اس طرح ڈھ جانے والا ہے کہ اس کی ایک اینٹ بھی باقی نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page