Al-Risala · June 1980 · page 8

یہ ایک پابند زندگی ہے

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۸

یہ ایک پابند زندگی ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اور ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے رسی میں بندھا ہوا گھوڑا، وہ گھومتا ہے پھر اپنے کھونٹے کی طرف واپس آجاتا ہے۔ مثل المومن و مثل الایمان کمثل الفرس في آخيتة يحول ثم يرجع الى آخيته ) جانور ایک ظاہری رسی میں بندھا ہوا ہوتا ہے۔ مگر ایمان اس طرح کی کوئی ظاہری رسی نہیں ہے۔ یہ ایک نظر نہ آنے والی رسی ہے۔ جانور مجبور ہوتا ہے کہ وہ اپنی رسی سے آگے نہ جائے۔ مومن ہی کام اپنے ارادہ سے کرتا ہے۔ اللہ کی پکڑ کا اندیشہ اس کے لئے ایک نہ دکھائی دینے والی رسی بن جاتا ہے۔ جو ہر وقت اس کو اندر سے تھامے رہتا ہے۔ وہ وہاں تک جاتا ہے جہاں تک جانے کی اللہ نے اجازت دی ہے اور وہاں جانے سے رک جاتا ہے جہاں جانے سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ وہ اللہ کا ایک بندھا ہوا بندہ ہوتا ہے نہ کہ آزاد چھوٹا ہوا جانور۔

دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اختیار رکھتے ہوئے بے اختیار ہو جائے۔ وہ آزادی کا موقع پاتے ہوئے اپنے کو پابند بنا لے۔ وہ ایک آدمی پر غصہ کرنے کی قدرت رکھتا ہو مگر وہ اس کو معاف کر دے۔ ایک حق بات اس کے سامنے آئے اور وہ اس کو جھٹلانے کے لئے آزاد ہو پھر بھی وہ اس کے آگے جھک جائے۔ وہ ایک شخص کے ساتھ ظلم کرنے پر قادر ہو اس کے باوجود وہ اس کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے ۔ وہ ایک شخص کا مال ہڑپ کر لینے کی طاقت رکھتا ہو مگر وہ اس کا مال اسے لوٹا دے۔ وہ ایک شخص کو نظر انداز کر دینے کی حیثیت میں ہو مگر اللہ کے خیال سے اس کو نظر انداز نہ کرے۔ اللہ نے ہر معاملہ میں آدمی کے لئے ایک حد مقرر کر دی ہے۔ آدمی کو اسی حد کے اندر رہنا ہے، اس کے باہر نہیں جانا ہے۔ دوسرے کے بارے میں رائے قائم کرنے کی حد یہ ہے کہ وہ خارجی واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرے۔ اس لئے آدمی کو یہ نہیں کرنا چاہئے کہ وہ قیاس اور گمان کی بنیاد پر دوسرے کے بارے میں رائے زنی کرنے لگے۔ تلاش معاش کی حد یہ ہے کہ آدمی محنت اور دیانت داری کے ساتھ کما کر جو چیز پائے اس کو اپنی چیز سمجھے، اس لئے آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ دھوکا اور لوٹ کھسوٹ کے ذریعہ حاصل کئے ہوئے مال کو وہ اپنا مال سمجھے لے۔ تنقید کی حد یہ ہے کہ واضح دلائل کی بنیاد پر کسی کار دکیا جائے اس لئے آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ دلیل کے بغیر کسی کو برا بھلا کہنے لگے۔ گفتگو کی حد یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ انداز میں اپنی بات دوسرے کے سامنے رکھے اس لئے آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ گالی گلوچ کی زبان میں بولنے لگے۔ کسی کو برا سمجھنے کی حد یہ ہے کہ معلوم واقعات سے ثابت ہو جانے کے بعد اس کو برا سمجھا جائے ، اس لئے آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ نامعلوم اور غیر ثابت شدہ چیزوں کی روشنی میں کسی کے بارے میں برا خیال قائم کرلے۔

رسی سے بندھا ہوا گھوڑا رسی کی لمبائی تک آزاد ہوتا ہے اور اس کے بعد پابند۔ مومن خدا کی اجازت کے دائرے میں آزاد ہے اور خدا کی ممنوعات کے دائرے میں پابند۔ جو شخص اس حد بندی کو قبول کر کے زندگی گزارے وہی مومن ہے اور اسی کے لئے آخرت کی جنتیں ہیں۔ جو شخص اس حد بندی کو قبول نہ کرے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہے اور آخرت میں اس کے لئے جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page