Al-Risala · June 1980 · page 7

تاریخ سبق دیتی ہے

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۷

تاریخ سبق دیتی ہے

آٹو مین لینڈر (1895 - 1980) ایک یہودی سائنس داں تھا۔ وہ جرمنی میں پیدا ہوا۔ دوسری جنگِ عظیم کے زمانہ میں وہ ہٹلر کے وی ٹو راکٹ (2-V Rocket) کے منصوبہ میں کام کر رہا تھا۔ ہٹلر کے زمانہ میں جرمنی میں پہلی بار یہ راکٹ تیار کئے گئے۔ ان راکٹوں نے لندن میں زبردست دہشت پھیلادی تھی۔ ہٹلر نے جب اپنے ملک کے یہودیوں کے خلاف ظلم و زیادتی شروع کی تو آٹو مین لینڈر (Otto Mainlander) اور دوسرے یہودی سائنس داں ہٹلر سے سخت برہم ہوگئے۔ اس برہمیکا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ آٹو مین لینڈر اور تقریباً ایک درجن یہودی سائنس داں جو ہٹلر کے راکٹ کے منصوبہ میں کام کر رہے تھے، وہ ضروری سامان اور فنی راز لے کر بھاگے اور ان کو امریکہ کے حوالے کر دیا۔ امریکہ میں بھی راکٹ کی سائنس پر ابتدائی تجربات ہو رہے تھے، جرمنی کے یہودی ماہرین کی مدد حاصل ہونے کے بعد اس تحقیق میں مزید تیزی پیدا ہوئی ۔ چنانچہ امریکہ نے راکٹ تیار کر کے جرمن علاقوں پر اتنی تیزی سے حملے کئے کہ ہٹلر کو دفاع کی پوزیشن میں ڈال دیا۔ انھیں جرمن یہودیوں کی مدد سے امریکہ نے وہ ایٹم بم تیار کئے جو 1945 میں جاپان پر گرائے گئے اور جس کے بعد دوسری جنگِ عظیم کا فیصلہ اتحادیوں کے حق میں ہوگیا (21 جنوری 1980) تاریخ میں اس طرح کے واقعات بار بار ہوئے ہیں۔ کسی شخص یا گروہ کے زوال کا سبب اکثر اس کے وہ اپنے لوگ ہوتے ہیں جن کو وہ شخص یا گروہ اپنی آمرانہ پالیسی کی بنا پر ناراض کر دیتا ہے۔ یہ ناراض لوگ منفی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں اور ”بغض معاویہ“ کے جذبہ کے تحت اس کے دشمنوں سے مل جاتے ہیں ۔ اپنوں کے اس تعاون سے دشمن کو غیر معمولی طاقت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لئے ممکن ہو جاتا ہے کہ اپنے حریف کے خلاف زیادہ مؤثر اقدام کر سکے۔ وہ نہایت آسانی کے ساتھ اپنے حریف کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ حریف کے ساتھیوں کی مدد اس کے لئے اس مہم کو آسان کر دیتی ہے جو تنہا اپنی قوت سے اس کے لئے مشکل بنی ہوئی تھی ۔ یہ بات ایک خاندان کے لئے بھی صحیح ہے اور ایک حکومت کے لئے بھی اور اسی طرح ایک پوری قوم کے لئے بھی۔ اپنوں کا ٹوٹ کر حریف سے مشابہت سے پہلوؤں سے نہایت خطرناک ہے ۔ اس کا ایک سنگین پہلو یہ ہے کہ حریف کو اپنے دشمن کے راز معلوم ہو جاتے ہیں ۔ وہ دشمن کے کمزور پہلوؤں کو جان کر اس کے مطابق اپنا منصوبہ بناتا ہے اور ٹھیک اس مقام پر وار کرتا ہے جہاں اس کا حریف سب سے کم مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہو۔

موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکوں نے ظالمانہ نظام کو ختم کرنے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ۔ مگر یہی تحریکیں ”عادلانہ نظام“ کو قائم کرنے میں سراسر ناکام رہیں ۔ اس کی وجہ مذکورہ بالا حقیقت کی روشنی میں سمجھی جاسکتی ہے ۔ اصل یہ ہے کہ ایک ظالمانہ نظام کو توڑنے کے لئے صرف ظلم دشمنوں کی فوج مل جانا کافی ہے اور وہ ذاتی اسباب کے تحت بہت آسانی سے مل جاتی ہے ۔ مگر عادلانہ نظام کو قائم کرنے کے لئے عدل دوستوں کی ضرورت ہے اور حقیقی معنوں میں عدل دوست اتنے کم ہیں کہ صرف امکان ہی کے درجہ میں ان کا وجود تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مشترک دشمنی کی بنیاد پر قائم ہونے والا اتحاد مشترک دوستی کی بنیاد نہ پا کر ٹوٹ جاتا ہے ۔ نفرت اور بغض کی بنیاد پر اٹھنے والی تحریک محبت کی فضا پیدا نہیں کر سکتی۔ اسی طرح ظلم دشمنی کی بنیاد پر اٹھنے والی بھیڑ عدل دوستی کا نظام قائم نہیں کر سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page