خدا کی مدد
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۱۲
اور طوفان کے بعد ختم ہو گیا ۔ آندھی نے دشمن کے لشکر میں اتنی بد حواسی پیدا کی کہ ابو سفیان نے اونٹ کی رسی کھولے بغیر اونٹ پر بیٹھ کر اس کو ہانکنا شروع کر دیا ۔ پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ ہزار سے زیادہ تعداد کی مسلح فوجیں خندق کو عبور کر کے مدینہ میں کیوں نہ داخل ہوئیں جہاں تین ہزار آدمیوں کا بے سر و سامان قافلہ ان کی یلغار کو روکنے کے لئے بالکل ناکافی تھا۔
اس سوال کا جواب خدا کی ایک سنت میں ملتا ہے ۔ وہ سنت یہ کہ اللہ اہل ایمان کی طاقت ان کے دشمنوں کو بڑھا کر دکھاتا ہے تاکہ وہ مرعوب اور مصیبت زدہ ہو جائیں ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے " ہم منکروں کے دلوں میں تمھارا رعب ڈال دیں گے ۔ کیوں کہ انھوں نے ایسی چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا جن کے حق میں خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری (آل عمران ۱۵۱) اللہ تعالیٰ کی یہ نصرت رعب غزوہ خندق میں اور دوسرے مواقع پر ظاہر ہوئی ۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کی کھودی ہوئی نالی ان کے دشمنوں کو بہت بڑی خندق کی صورت میں دکھائی دی۔ تب مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں کو تھکا کر ایک " نالی " کھود نا ضروری ہے۔ اگر وہ نالی کھود نے میں اپنے ہاتھوں کو نہ تھکائیں تو خدا ان کی نالی کو خندق بنا کر کس طرح دکھائے گا۔
اللہ تعالیٰ کی نصرت رعب جو قرن اول کے مسلمانوں کو کمال درجہ میں حاصل ہوئی وہ بعد کے دور کے مسلمانوں کو بھی مل سکتی ہے ۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ اس راستہ پر چلیں جس راستہ پر صحابہ، خدا کے رسول کی رہنمائی میں چلے ۔ کسی اور راستہ پر چلنے والے شیطان کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ پھر ان کو خدا کی نصرت کس طرح ملے گی ۔ اللہ کی نصرت کا مستحق آدمی اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو حق کے ساتھ اس طرح شامل کرے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس کو وہ حق کے حوالے کر دے ، وہ اپنے سر کا تاج دوسرے کے سر پر رکھ دے جیسا کہ ہجرت کے بعد مدینہ کے لوگوں نے کیا۔ خدا کی نصرت کا مستحق بننے کی شرط ایک لفظ میں یہ ہے کہ " جب تم مدد کرو گے تو تمھاری مدد کی جائے گی " خدا ہماری مدد پر اس وقت آتا ہے جب کہ ہم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ہم خدا سے اپنے لئے چاہتے ہیں ۔ ہماری ذات سے اگر دوسروں کو رحمت پہنچ رہی ہو تو خدا کے فرشتے ہمارے لئے خدا کی رحمت کا تحفہ لے کر نہیں آسکتے۔ اگر ہمارا یہ حال ہو کہ جس پر ہمارا قابو چلے اس کو ہم ناحق ستانے لگیں تو ناممکن ہے کہ خدا وہاں ہماری مدد کرے جہاں کوئی دوسرا ہمارے اوپر قابو پا کر ہمیں ستانے لگتا ہے۔ ایک آدمی اپنی مصیبت میں ہم کو پکارے اور ہم استطاعت کے باوجود اس کی پکار پر دھیان نہ دیں تو کبھی یہ ممکن نہیں کہ خدا اس وقت ہماری پکار کو سنے جب کہ کوئی طاقت ور ہمارے اوپر چڑھ آتا ہے اور ہم خدا کو پکارنے لگتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے مقابلہ میں آدمی طاقت ور ہوتا ہے اور کسی کے مقابلہ میں کمزور ۔ یہی صورت حال نصرت خداوندی کے معاملہ میں آدمی کے امتحان کا پر چہ ہے۔ کوئی شخص یا قوم اپنے طاقت وروں کے مقابلہ میں خدا کی جو نصرت چاہے اس کا ثبوت اس کو اپنے کمزوروں کے معاملہ میں دینا پڑتا ہے اگر آدمی اپنے کمزوروں پر ظلم کرتا ہو تو اپنے طاقت وروں کے مقابلہ میں وہ خدا کی مدد کا مستحق نہیں بن سکتا ، خواہ وہ کتنا ہی خدا کو پکارے ، خواہ وہ کتنا ہی یوم دعا منائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues